ہمارا خدا — Page 135
واپس آجاتا ہے۔مگر زیادہ عرصہ نہیں گذرتا کہ ماں بھی عالم ارواح میں اپنے مرحوم خاوند سے جاملتی ہے اور یہ بچہ بغیر ماں باپ کے رہ جاتا ہے۔اس کے بعد بعض رشتہ داروں کی آغوش تربیت میں یہ بچہ جوان ہوتا ہے اور بڑا ہو کر دوسرے قریش کی طرح تجارت کے کاروبار میں مصروف ہو جاتا ہے اور اسی حالت میں اس کی عمر کے سال گذرتے جاتے ہیں۔وہ بالکل ان پڑھ اور اُمتی ہے مگر اپنے اخلاق فاضلہ سے قریش میں خاص عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور لوگ اُسے ”امین“ کے لقب سے پکارتے ہیں۔جب اُس کی عمر چالیس سال کے قریب ہوتی ہے تو اُس کی طبیعت خلوت گزینی کی طرف مائل ہو جاتی ہے اور قریش کے عادات و رسوم اور اُن کا مذہب اس کی سلیم فطرت کو قابل نفرت نظر آتے ہیں۔وہ ایک اعلیٰ ضابطہ اخلاق اور دل کو سچی تسکین دینے والے مذہب کی تلاش میں سرگردان رہتا ہے۔مکہ کے پاس ایک ویران پہاڑ ہے جس میں ایک ویران غار ہے۔یہ جگہ اُسے اپنی خلوت نشینی کے لئے پسند آتی ہے اور وہ دن رات اُسی کے اندر بیٹھا رہتا ہے اور ایک نامعلوم ہستی کی یاد میں جو اُس کے بے چین دل کو تسکین دے سکے اپنا وقت گزارتا ہے۔اس کا کوئی راز دار نہیں ہے مگر اس کی بوڑھی بیوی جو مکہ میں رہتی ہے اور اپنے خاوند کو پریشان دیکھ کر خود پر یشان ہوئی جارہی ہے۔اسی طرح وقت گذرتا جاتا ہے اور آخر وہ وقت آتا ہے کہ اس نامعلوم ہستی کی ضیاء پاش کر نیں جس کی تلاش میں وہ سرگردان ہے اس کے قلب صافی پر گرنی شروع ہوتی ہیں اور عالم روحانی کا وسیع منظر اُس کی نیم باز آنکھوں کے سامنے گھلنا شروع ہوتا ہے۔پھر مختصر یہ کہ زیادہ عرصہ نہیں گذرتا کہ وہ اس پردہ مستوریت سے باہر آ کر اپنے خُدا داد منصب کو قریش کے سامنے پیش کرتا ہے اور ان کو اُس خُدا کی طرف بلا تا ہے جو اس دُنیا کا خالق و مالک ہے اور جس کے بغیر اور کوئی خدا نہیں۔سردارانِ قریش اُس کی اس بات کو سُن کر ہنس دیتے ہیں اور اُسے قابل التفات نہیں سمجھتے۔مگر وہ اپنے کام میں 135