ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 136 of 255

ہمارا خدا — Page 136

لگا رہتا ہے اور آخر چند سمجھدار وفا شعار لوگ اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں اور اُس کی باتوں پر ایمان لاکر اس کے کام میں ہاتھ بٹانے لگتے ہیں۔اب اُس کی قوم کی بھی آنکھیں کھلتی ہیں اور وہ ہیں اور وہ یہ محسوس کرنے لگتی ہے کہ یہ آواز صرف ہنس کر ٹال دینے والی نہیں بلکہ اگر اس کی روک تھام نہ کی گئی تو یہ آواز ان کی قوم میں پھوٹ اور جتھہ بندی پیدا کر دیگی۔اور اب سے اس عظیم الشان اور تاریخ عالم میں بے نظیر مذہبی جنگ کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس نے بیس سال تک عرب کے وسیع ملک میں ایک زلزلہ اور طوفان برپا کر رکھا اور ملک کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک ایک ایسی آگ لگادی جو اُس وقت تک نہیں بجھی جب تک کہ سارا ملک ایک واحد خُدا کے جھنڈے کے نیچے جمع نہیں ہو گیا۔سب سے پہلے قریش مکہ نے مسلمانوں کی اس میٹھی بھر جماعت کو جبراً اُن کے پُرانے دین کی طرف لوٹانا چاہا اور اُن کو ایسے ایسے مظالم کا تخیہ مشق بنایا جن کا حال پڑھ کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔بلال ایک حبشی غلام تھے اُن کے کانوں میں اسلام کی آواز پڑی تو فطرتِ صحیحہ نے فوراً قبول کر لیا۔اُن کا آقا امیہ بن خلف قریش کا ایک بڑار کیس تھا۔اُس بدبخت نے اُن کو اتنے دُکھ دیئے کہ خدا کی پناہ۔دوپہر کے وقت جبکہ اوپر سے آگ برستی تھی اور ملکہ کا پتھر یلا میدان بھٹی کی طرح پیتا تھا اُمیہ بن خلف ان کو باہر لے جاتا اور اُن کو ننگا کر کے ریت پر لٹا دیتا اور بڑے بڑے گرم پھر اُن کے سینے پر رکھ کر خود او پر چڑھ بیٹھتا اور کہتا۔” محمد سے الگ ہو جا اور خدا کی پرستش ترک کر دے اور بتوں کے سامنے سجدہ کر ورنہ اسی طرح عذاب دے دے کر مار دونگا۔بلال زیادہ عربی نہیں جانتے تھے۔آسمان کی طرف دیکھتے اور کہتے۔احد - احد۔یعنی ” خُدا ایک ہے خدا ایک ہے میں اسے نہیں چھوڑ سکتا۔“ پھر یہ ظالم ان کو رشی سے باندھ کر شریر لڑکوں کے حوالے کر دیتا اور وہ ان کو ملتے کی پتھریلی گلی کوچوں میں گھسیٹتے پھرتے جس سے اُن کا نگا بدن زخمی ہوکر خون سے تر بہ تر ہو جاتا اور 136