ہمارا خدا — Page 134
میں تیر وفادار آقا ہوں اب قیامت تک یہ یہود تیرے حلقہ بگوشوں کے پاؤں کے نیچے رہیں گے۔اور دُنیا دیکھ لے گی کہ دراصل تو نے فتح پائی ہے نہ کہ ان یہود نے “ آج دُنیا کیا نظارہ دیکھتی ہے؟ کیا مسیح کے خادم ساری دنیا پر ایک سیل عظیم کی طرح نہیں چھار ہے؟ اور یہود کا کیا حال ہے؟ وہی یہود جو ایک دن مسیح کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھتے تھے اور تمسخر کے ساتھ کہتے تھے کہ دیکھو یہ ہمارا بادشاہ ہے آج مسیح کے خادم رحم کھا کر اُن کے سروں پر ارضِ مقدس کی بادشاہت کا تاج رکھنا چاہتے ہیں مگر کوئی رکھنے نہیں دیتا اور آج تک بنی اسرائیل کی ساری قوم سیخ کو صرف چند گھنٹوں کے لئے سولی پر لٹکانے کی وجہ سے گویا اُنیس سو سال سے خود سولی پر ٹکی ہوئی ہے۔اللہ اللہ ! خدا کی بھی کیسی عبرتناک پکڑ ہے۔پھر سب کے سردار محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی ) کے وجود باجود کی طرف نگاہ کرو۔قریش کے ایک معز زمگر غریب گھرانے کے لڑکے کی شادی ایک حیا پر ورلڑکی سے ہوتی ہے۔خاوند اور بیوی بہت تھوڑا عرصہ اکٹھا رہنا پاتے ہیں کہ اس لڑکی کے سر سے خاوند کا سایہ اُٹھ جاتا ہے۔وہ لڑکی اس وقت حمل سے ہے اور اُس کے پیٹ کا بچہ اس کے خاوند کی یاد کو اس کے معصوم دل میں اور بھی زیادہ دردناک طور پر تازہ رکھ رہا ہے۔خیر وہ بچہ پیدا ہوتا ہے۔ماں اُسے دیکھتی ہے اور گو اس وقت اُس کے مرحوم خاوند کی یاد زیادہ در دوالم کے ساتھ اس کے دل میں تازہ ہو رہی ہے مگر وہ خوش بھی ہے کہ اس کے خاوند کے نام کو زندہ رکھنے والا بچہ اب اُس کی آنکھوں کے سامنے ہے۔وہ اُسے قریش کی رسم کے مطابق کسی بدوی دایہ کے سپر د کرنا چاہتی ہے۔مگر یتیم بچے کو کون لے؟ آخر بڑی تلاش کے بعد ایک دایہ ملتی ہے جو بچے کو اپنے ساتھ لے جانے پر رضامند ہو جاتی ہے اور اس طرح یہ نبیوں کا سرتاج عرب کے صحرائی جھونپڑوں میں اپنی زندگی کے ابتدائی دن گزارتا ہے۔جب عمر ذرا بڑی ہوتی ہے تو یہ بچہ اپنی ماں کے پاس 134