ہمارا خدا — Page 119
مدرک بالا رادہ خالقِ فطرت ہستی کا ہاتھ ہے جس نے ایک خاص غرض و غایت کے ماتحت یہ جو ہر اس کے اندر مرکوز کر دیا ہے۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے:۔فَالْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَتَقْوهَا یعنی ” خدا نے ہر انسان کی فطرت میں بدی اور نیکی کا شعور رکھ دیا ہوا ہے اور اُسے اس کی فطرت کے ذریعے بتا دیا ہے کہ یہ راستہ بُرا ہے اور یہ راستہ اچھا ہے۔“ اور دوسری جگہ فرمایا ہے: وَهَدَيْناهُ النَّجْدَيْنِ یعنی ” ہم نے انسان کو نیکی اور بدی ہر دو کے رستے (اس کی فطرت کے ذریعہ) دکھا دیئے ہوئے ہیں۔اور اب یہ اس کا کام ہے کہ وہ چاہے تو نیکی کے رستہ کو اختیار کرے اور چاہے تو ط بدی کے رستہ پر پڑ جائے۔ایک اور جگہ کھلے الفاظ میں فرماتا ہے: وَإِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى سِهِمْ ۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوْا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِيْنَ یعنی ” اس وقت کو یاد رکھو کہ جب تیرے رب نے بنی آدم کی پشت سے اُن کی ہونے والی نسلوں کو مخاطب کر کے اور اُن کو خود ان کے متعلق گواہ رکھ کر فرمایا۔کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ اس پر انہوں نے جواب دیا۔ہاں۔بیشک تو ہمارا رب ہے۔یہ اس لئے کیا گیا کہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم تو اپنے خدا کی ہستی کے متعلق غافل ہی رہے۔سورة الشمس - آیت 9 سورة الاعراف آیت 173 سورة البلد - آیت 11 119