ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 120 of 255

ہمارا خدا — Page 120

الغرض ہر انسان کی فطرت کے اندر نیکی بدی کا شعور پایا جاتا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان خود اپنے آپ سے نہیں ہے اور نہ وہ کسی اندھے قانون کا نتیجہ ہے اور یہ ایک ایسی روشن دلیل خدا کی ہستی کی ہے کہ جس سے کوئی عقلمند انکار نہیں کر سکتا۔قبولیت عامہ کی دلیل اس کے بعد جو دلیل میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ قبولیت عامہ کی دلیل ہے اور یہ دلیل اس اصول پر مبنی ہے کہ دنیا میں کسی خیال یا عقیدہ کی عالمگیر مقبولیت جو ہر زمانہ میں قائم رہی ہو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خیال یا عقیدہ اپنے اصل کے لحاظ سے حق و راستی پر مبنی ہے۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے: فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً ۚ وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِى الْأَرْضِ یعنی ” جو چیز لوگوں کے واسطے حقیقی طور پر مفید اور نفع بخش ہوتی ہے وہی دُنیا میں مستقل طور پر قائم رہتی ہے اور فضول اور بے نفع چیز کو یہ ثبات کبھی حاصل نہیں ہوتا۔“ اسی طرح سائنس کا ایک اصل ہے جسے انگریزی میں سروائیول آف دی فٹسٹ (Survival of the fittest) کہتے ہیں۔جس کے یہ معنے ہیں کہ زندگی کی جنگ میں وہی چیز سلامت رہتی ہے جو زیادہ مفید اور قائم رہنے کی زیادہ اہل ہوتی ہے اور دوسری چیزیں جو اس کے مقابل میں ہوتی ہیں مٹ جاتی ہیں اور ہمارا مشاہدہ بھی ہمیں یہی بتاتا ہے کہ دُنیا میں حقیقی اور دائمی ثبات صرف نفع بخش چیز کو حاصل ہوتا ہے اور ایک ضرر رساں باطل یا غیر مفید چیز کبھی بھی مستقل اور عالمگیر فروغ حاصل نہیں کر سکتی۔میرا یہ مطلب نہیں کہ کوئی باطل یا غیر مفید چیز دنیا میں قائم ہی نہیں ہوسکتی بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسی چیز کا قیام دائمی اور عالمگیر نہیں ہوسکتا بلکہ عارضی اور محدود ہوتا ہے۔120 سورة الرعد آیت 18 ↓