ہمارا خدا — Page 111
مفقود ہو۔بیشک یہ ممکن ہے کہ کسی انسان کی فطرت بیرونی اثرات کے نتیجہ میں کمزور ہو جائے یا ایسی طرح دب جائے کہ گویا وہ بالکل مر ہی گئی ہے لیکن پھر بھی کسی نہ کسی رنگ میں کسی نہ کسی صورت میں کسی نہ کسی موقع پر وہ ظاہر ہوئے بغیر نہیں رہتی۔ہر انسان خواہ اس کی حالت کیسی ہی بری ہو فطرۂ نیکی کو پسند کرتا اور بدی کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔بیشک ایک نہایت شقی القلب پر انا عادی چور جس نے چوری کر کر کے اور لوگوں کے اموال کو اُن سے ناجائز طور پر چھین چھین کر اپنی فطرت کو گناہ کے تاریک و تار پردوں میں دفن کر رکھا ہو بسا اوقات لوگوں کے طعنوں سے تنگ آکر یا اپنے آپ کو اپنے ضمیر کے مخفی نشتروں سے بچانے کے لئے ڈھیٹ بن کر ایسی باتیں کہنے لگ جاتا ہے کہ میرا چوری کرنا کوئی بُر افعل نہیں کیونکہ جس طرح لوگ مختلف پیشے اختیار کر کے اپنی روزی کماتے ہیں اسی طرح میں بھی محنت کر کے اور اپنی جان کو مشقت اور خطرہ میں ڈال کر اپنا اور اپنے اہل وعیال کا پیٹ پالتا ہوں لیکن باوجود اس کے اس پر ایسے اوقات ضرور آتے رہتے ہیں کہ جب اس کی فطرت اُسے ملامت کرتی ہے کہ تیرا یہ فعل نا واجب اور ظالمانہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات جب ایک چور جوانی سے نکل کر بڑھاپے میں قدم رکھتا ہے اور موت اُسے قریب نظر آتی ہے تو وہ چوری کی زندگی کو ترک کر کے اپنے ضمیر سے صلح کرنے کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور اگر کسی شخص کی فطرت بالکل ہی خاموش ہو چکی ہوتی کہ وہ اپنی بداعمالیوں کو ہی اپنے لئے موجب فخر سمجھنے لگ جائے اور بظاہر حالات ایسا نظر آئیں کہ اس کے اندر نیکی بدی کا شعور بالکل ہی مفقود ہو چکا ہے تو پھر بھی نظر غائر سے دیکھنے والوں پر یہ بات مخفی نہیں رہے گی کہ ایسا شخص بھی اس فطری جو ہر سے خالی نہیں ہے جو نیکی بدی کے شعور سے موسوم ہوتا ہے کیونکہ گو دوسروں کے ساتھ معاملہ کرنے میں وہ بالکل مُردہ فطرت نظر آتا ہے لیکن جب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اُس کے ساتھ دوسرے لوگ کس طرح معاملہ کریں تو اُس کی دبی ہوئی فطرت تمام 111