ہمارا خدا — Page 112
پر دوں کو پھاڑ کر باہر نکل آتی ہے اور وہ اس بات کے لئے ہرگز تیار نہیں ہوتا کہ اپنا چھوٹے سے چھوٹا حق بھی جو وہ نیکی بدی کے شعور کے ماتحت سمجھتا ہے کہ اُسے حاصل ہے ترک کر دے۔مثلاً دوسروں کا مال چرانے میں ایک پرانا عادی چور جس نے چوری کر کر کے اپنی فطرت کو مار رکھا ہو اپنے آپ کو حق بجانب سمجھ سکتا ہے یا کم از کم یہ ظاہر کر سکتا ہے کہ میں حق بجانب ہوں لیکن اگر دوسرا کوئی شخص اس کے مال پر ہاتھ ڈالے تو فوراً اس کی نیم مردہ فطرت جوش میں آکر اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے کھڑی ہو جاتی ہے۔اسی طرح ایک زانی جو دوسروں کی بہو بیٹیوں اور بہنوں اور بیویوں کو خراب کرنے کے درپے رہتا ہے اور بعض اوقات اپنے اس گندے فعل میں ایسا انہماک پیدا کر لیتا ہے کہ اگر کوئی شخص اسے اس حرکت سے باز رکھنے کی کوشش کرے تو وہ بے شرم بن کر یہاں تک کہہ دیتا ہے کہ یہ کوئی بُرا کام نہیں ہے جو میں فریق ثانی کی رضامندی سے کرتا ہوں اور دوسروں کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔لیکن جب خود اس کے اندرون خانہ پر کوئی دوسرا بد بخت ہاتھ ڈالتا ہے تو پھر اُس کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے اور وہ یہ بات بُھول جاتا ہے کہ اگر مجھے اپنی خوشی کے پورا کرنے کا حق ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ دوسرا شخص بھی اپنی خوشی پوری نہ کرے۔اسی طرح ایک کذاب اور دروغگو انسان دوسروں کو دھوکا دیکر خوش ہو سکتا ہے لیکن جب کوئی شخص جھوٹ بول کر خود اُسے دھوکے میں ڈالتا ہے تو وہ غیظ و غضب سے بھر کر انتقام لینے کے درپے ہو جاتا ہے۔الغرض نیکی بدی کا شعور فطرۃ ہر انسان کے اندر موجود ہے اور یہ شعور اس بات کی ایک زبردست دلیل ہے کہ انسان خود بخود کسی اتفاق کا ثمرہ نہیں اور نہ کسی اندھے قانون کا نتیجہ ہے بلکہ ایک علیم وحکیم ہستی نے اسے ایک خاص غرض کے ماتحت پیدا کیا ہے اور وہ غرض یہی ہے کہ انسان اپنے اس فطری شعور کو جو بطور ایک تخم کے اس کے اندر رکھا گیا ہے نشو ونما دیکر اپنے لئے اعلیٰ ترقیات کے دروازے کھولے اور اس کامل منبع 112