ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 110 of 255

ہمارا خدا — Page 110

مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے مجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا آنکھ کے اندھوں کو حائل ہوگئے سو سو حجاب ورنہ قبلہ تھا تیرا رُخ کافر و دین دار کا ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز جس سے کٹ جاتا ہے سب جاتا ہے سب جھگڑا غم اغیار کا تیرے ملنے کے لئے ہم مل گئے ہیں خاک میں تا مگر درماں ہو کچھ اس ہجر کے آزار کا ایک دم بھی کل نہیں پڑتی مجھے تیرے سوا جاں گھٹی جاتی ہے جیسے دل گھٹے بیمار کا شور کیسا ہے ترے کوچے میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا نیکی بدی کے شعور کی دلیل اس کے بعد جو عقلی دلیل ہستی باری تعالیٰ کے متعلق میں اس جگہ پیش کرنا چاہتا ہوں وہ اس اخلاقی قانون سے تعلق رکھتی ہے جو ہر انسان کی فطرت میں مرکوز ہے۔گویا جیسا کہ گذشتہ دلیل اس طبعی قانون سے تعلق رکھتی تھی جو انسان اور اس عالم دنیوی کی دوسری چیزوں میں انفرادی اور مجموعی طور پر کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔اسی طرح یہ دلیل جو میں اب بیان کرنا چاہتا ہوں اس اخلاقی قانون پر مبنی ہے جو ہر فرد بشر کی فطرت میں کام کر رہا ہے اور جس کے وجود سے کوئی عقلمند انکار نہیں کر سکتا۔نیکی بدی کا شعور انسان کی فطرت کے اندر مرکوز ہے اور کوئی انسان بھی ایسا نہیں ملے گا جس کے اندر یہ شعور 110