ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 56 of 255

ہمارا خدا — Page 56

مائل ہو جاتا ہے۔میں کہتا ہوں کہ یہ دلیل تو ہمارے حق میں ہے نہ کہ ہمارے خلاف۔موت کا خوف بھی تو ایک فطری آواز ہے ورنہ ایک دہر یہ کیا اور موت کا خوف کیا؟ جو شخص اپنی زندگی کو محض اتفاق کا نتیجہ قرار دیتا ہے اس کی نظر میں موت سوائے اس کے اور کوئی حقیقت نہیں رکھ سکتی کہ وہ زندگی جو اتفاق کا نتیجہ تھی اب اتفاق کے نتیجہ میں ہی یا کسی اور وجہ سے اُس کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہورہا ہے، اور بس۔پس موت کا قرب ایک دہریہ کے دل پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتا۔لہذا ثابت ہوا کہ خود موت کا خوف بھی کسی اندرونی تغیر کا نتیجہ ہے اور اسی کا نام ہم فطرت کی آواز رکھتے ہیں۔بات وہی ہے کہ جب غفلت اور ظلمت کے پردے اُٹھنے شروع ہوتے ہیں تو ہماری فطرت پھر ہمارے دل پر حکومت کرنے کا موقعہ پالیتی ہے اور ہم ایک غیر محسوس طاقت سے ایمان باللہ کی طرف کھنچنا شروع ہو جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا خوب فرماتے ہیں ؎ آنکھ کے اندھوں کو حائل ہوگئے سو سو حجاب ورنہ قبلہ تھا تیرا رُخ کافر و دیندار کا الغرض فطرت انسانی ہستی باری تعالیٰ کا ایک زبر دست ثبوت ہے جس سے کوئی عقلمند انکار نہیں کر سکتا اور یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا سراسر احسان ہے کہ اُس نے ہماری ہدایت کے لئے ہماری فطرت کے اندر ہی ایمان کا بیج بو رکھا ہے۔چنانچہ قرآن شریف فرما تا ہے:۔وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُوْنَ یعنی اے لوگو! تمہیں ادھر ادھر جانے کی ضرورت نہیں تمہارے تو خود اپنے نفسوں میں خُدائی آیات موجود ہیں مگر تم دیکھو بھی۔کسی شاعر نے خوب کہا ہے۔سورة الذاريات - آیت 22 56