ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 55 of 255

ہمارا خدا — Page 55

سنائی نہ دیتی تھی اب باہر نکل کر ہمارے سامنے آجاتی ہے۔اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جب انسان بوڑھا ہو جاتا ہے تو اُس کی فطرت کی آوازیں زیادہ وضاحت کے ساتھ اس کے کانوں میں سنائی دینے لگتی ہیں۔اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ جوانی میں عموماً ہزاروں قسم کی غفلتیں انسان کو گھیرے رکھتی ہیں اور دنیاوی کاروبار کی بھی کثرت ہوتی ہے اور جذبات بھی جوش کی حالت میں ہونے کی وجہ سے عمو مأحد اعتدال سے تجاوز کر جاتے ہیں۔لیکن جب انسان بوڑھا ہونے لگتا ہے تو یہ جوش و خروش ٹھنڈا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور یہ غفلتیں دور ہونی شروع ہو جاتی ہیں اور دنیاوی کاروبار سے بھی قدرے فرصت ملتی ہے تو اس صورت میں فطرت کو پھر موقعہ مل جاتا ہے کہ اپنی آواز انسان کے کانوں تک پہنچا سکے۔دیکھ لودہریوں میں اکثر جوان نظر آئیں گے اور جب اُن کی جوانی ڈھلنے لگتی ہے تو عموماً اس کے ساتھ ہی اُن کے خیالات میں ایک تغیر پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔حتیٰ کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بڑھاپے کی حالت میں پہنچ کر بہت سے دہر یہ خدا کے قائل ہو جاتے ہیں کیونکہ اب اُن کی فطری آواز ان تک پہنچتی رہتی ہے اور اُن کو مجبور کرتی ہے کہ وہ انکار سے باز آجائیں۔مستثنیات کا سوال الگ ہے ورنہ عام قاعدہ یہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔ہاں اگر کسی شخص کو بڑھاپے میں بھی ایسے حالات درپیش رہیں کہ جو اس کی فطرت کو دبائے رکھیں تو وہ بیشک دہریت کی حالت پر ہی قائم رہے گا لیکن چونکہ اس قسم کے غافل کن حالات زیادہ تر جوانی میں ہی پیش آتے ہیں اس لئے دہریت کا شکار بھی اکثر نوجوان ہی ہوتے ہیں۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ تبدیلی فطرت کی آواز کی وجہ سے نہیں بلکہ موت کے ڈر کی وجہ سے ہوتی ہے۔یعنی جب ایک بوڑھا شخص دیکھتا ہے کہ اب میری موت قریب ہے تو طبعا وہ خائف ہونا شروع ہوتا ہے اور اس خوف کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خدا کی طرف 55