ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 41 of 255

ہمارا خدا — Page 41

گویا اللہ تعالیٰ نے ایمان کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ایک وہ ایمان ہے جس تک انسان خودا اپنی عقل کی مدد سے پہنچ سکتا ہے، اور دوسرے وہ ایمان ہے جس تک مجر عقل کی پہنچ نہیں بلکہ اس مقام کے لئے عقل کی امداد کے واسطے آسمان سے بعض اور چیزوں کا نزول ہوتا ہے اور تب جا کر انسان اُس ایمان کو حاصل کر سکتا ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَا تُدْرَكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرَكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ - یعنی انسانی بصارت خدا تک پہنچنے اور اس کا علم اور عرفان حاصل کرنے سے عاجز ہے۔اس لئے خدا نے یہ انتظام کیا ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو انسانی بصارت تک پہنچاتا ہے یعنی خود اپنی طرف سے ایسا انتظام فرماتا ہے کہ انسان خدا کا علم اور عرفان حاصل کر سکے۔کیونکہ اگر خُد الطیف ہونے کی وجہ سے انسان کی ظاہری نظر کی پہنچ سے باہر ہے تو وہ خبیر بھی تو ہے اور جانتا ہے کہ انسان کی روحانی زندگی میرے عرفان کے بغیر ممکن نہیں۔پس وہ خود اپنی طرف سے ایسے سامان پیدا کرتا ہے کہ اس کے لطیف اور پوشیدہ ہونے کے باوجود انسان کو خُدا کا عرفان حاصل ہو سکے۔گو بالا تدركه الابصار کے مقابل میں خدا کی صفت لطیف کو رکھا گیا ہے تا یہ ظاہر ہو کہ عقل کے ذریعہ خدا کا ادراک اس لئے ناممکن ہے کہ وہ لطیف ہے اور وهُو يُدْرَكُ الأبصار کے مقابل میں صفت خبیر کو رکھا گیا ہے یعنی یہ کہ خدا خود اپنی شناخت کا انتظام کرتا ہے کیونکہ وہ خبیر ہے گویا اللہ تعالیٰ کی دو مقدم الذکر صفات یعنی لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَار اس کی دو موخر الذکر صفات یعنی اللطیف اور الخبیر کا علی الترتیب طبعی نتیجہ ہیں۔اب ایک طرف تو قرآن شریف کی یہ تعلیم ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے اور دوسری سورة الأنعام - رکوع 13 آیت 4-1 41