ہمارا خدا — Page 35
خدا کے متعلق تحقیق کا طریق اب میں نہایت اختصار کے ساتھ یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے متعلق تحقیق کا طریق کیا ہونا چاہئے؟ کیونکہ جب تک ہمیں یہ معلوم نہ ہو کہ کسی چیز کے متعلق تحقیق کا صحیح طریق کیا ہے اس وقت تک کامیابی نہایت مشکل ہے۔ایک غلط طریق کو اختیار کر کے ہم اپنی ساری کوشش بلا سود ضائع کر سکتے ہیں۔ایک شخص جو زمین میں کنواں کھود کر پانی نکالنا چاہتا ہے کبھی پانی تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ خاص خطہ زمین کو منتخب کر کے خاص قواعد کے ماتحت زمین کو عمودی شکل میں کھودتا ہو انیچے نہ اتر جائے۔اگر وہ زمین کو عمودی شکل میں نہیں کھودیا بلکہ سطح زمین کے متوازی کھودنا شروع کر دیگا تو خواہ وہ دوسو میل تک کھودتا ہو اچلا جائے وہ کبھی پانی کی شکل نہیں دیکھے گا کیونکہ اس نے پانی تک پہنچنے کا غلط طریق اختیار کیا ہے اور بعد میں اس کا یہ شکایت کرنا کہ دیکھو میں نے اتنی محنت اور عرقریزی کی ہے اور پھر بھی مجھے پانی نہیں ملا ایک غلط اور بیہودہ عذر ہوگا جو کسی عقلمند کے نزدیک مسموع نہیں ہوسکتا۔پس معلوم ہو ا کہ صرف محنت اور کوشش کوئی حقیقت نہیں رکھتیں جب تک کہ وہ صحیح طریق پر صرف نہ کی جائیں اور جس طرح ہم دنیا کے تمام کاموں میں دیکھتے ہیں کہ قانون قدرت کے ماتحت ہر کام کے لئے ایک خاص طریق مقرر ہے جس کے بغیر وہ کام سرانجام نہیں پاسکتا، اسی طرح روحانی امور میں بھی ہر مقصد کے حصول کے واسطے ایک راستہ اور طریق مقرر ہے جسے اختیار کرنے کے بغیر ہم اس مقصد کو حاصل نہیں کر سکتے خواہ ہم کیسی ہی محنت اور توجہ صرف کریں۔اور اس ضابطہ اور قانون کا وجود سراسر ہمارے فائدہ کے لئے ہے کیونکہ اس کے بغیر انسان کی علمی اور عملی ترقی محال ہے۔فرض کرو کہ اگر دنیا میں کوئی قانون نہ ہو اور بغیر ایک خاص طریق پر محنت کرنے کے انسان محض خواہش سے ایک چیز کو حاصل کر سکے تو دنیا کا کیا حشر ہو؟ کیا علم اور محنت اور کوشش اور تجربہ کی جگہ جہالت اور سستی اور کاہلی اور اتکال کا 35