ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 225 of 255

ہمارا خدا — Page 225

اور اپنے اعمال سے خدا تعالیٰ کے انعام و اکرام کا حقدار بن کر اس کا قرب حاصل کرے۔پس اگر ہر شخص مجبور ہوتا کہ خدا کی نازل کردہ شریعت کے مطابق اپنی زندگی رکھے تو انسان کے لئے یہ سب ترقیات کے دروازے مسدود ہو جاتے اور کوئی شخص انعام واکرام کا حقدار نہ بن سکتا اور یہ سارا سلسلہ جہد و عمل کا بریکار جاتا۔خوب سوچ لو کہ انعام کا حقدار بننے کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان صاحب اختیار ہو یعنی چاہے تو نیکی کے رستے کو اختیار کرے اور چاہے تو بدی کے رستے پر چل پڑے۔لیکن اگر انسان مجبور ہو تو پھر یقینا نیکی سے محبت کرنے والے اور نیکی سے محبت نہ کرنے والے، ٹھیک رستے پر چلنے والے اور ٹھیک رستے پر نہ چلنے والے، اپنے نفس پر قابورکھنے والے اور اپنے نفس پر قابو نہ رکھنے والے، استقلال وصبر سے کام لینے والے اور استقلال وصبر سے کام نہ لینے والے، محنت کرنے والے اور محنت نہ کرنے والے سب برابر ہو جاتے اور اچھے بُرے میں کوئی امتیاز نہ رہتا۔اسی طرح جو ترقی باہمی مقابلہ اور رشک اور مسابقت کے خیال کی وجہ سے اس وقت حاصل ہو رہی ہے وہ بھی سب رُک جاتی اور ترقی کرنے کا کوئی محرک دنیا میں باقی نہ رہتا اور انسان گویا ایک منجمد صورت اختیار کر لیتا یا زیادہ سے زیادہ ایک فرشتہ کی طرح ہو جاتا جس کی نیکی دراصل کوئی نیکی کہلانے کی حقدار نہیں کیونکہ وہ اپنی خلقت سے مجبور ہے کہ ٹھیک رستے پر چلے اور اس کے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ خُدا کے منشاء سے ذرا بھی ادھر اُدھر ہو اور اسی لئے عقلمندوں کا قول ہے کہ فرشتہ کی نسبت نیک انسان کا مرتبہ بالا ہوتا ہے کیونکہ انسان اپنے سوچ بچار اور غور وفکر کے نتیجہ میں نیکی اختیار کرتا ہے لیکن فرشتہ اپنی نیکی کی حالت میں بطور ایک قیدی کے محصور ہے اور اس لئے اس کی نیکی دراصل کوئی نیکی نہیں اور اسی لئے قرآن کریم نے بھی انسان کے متعلق فرمایا ہے: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيْمِ سورة التين - آیت5 225