ہمارا خدا — Page 226
یعنی ”ہم نے انسان کو جملہ مخلوقات میں سے بہترین فطرت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور کوئی دوسری مخلوق اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔“ الغرض انسان کا اپنے اعمال میں صاحب اختیار ہونا اس کے کمال کی علامت ہے اور گناہ کا وجود اس اختیار کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔پس گناہ خدا کا پیدا کردہ نہیں ہے بلکہ خدا کی رحمت کے انکار کا ثمرہ ہے۔لہذا اس کا وجود خدا کی ہستی کے خلاف ہرگز بطور دلیل کے پیش نہیں کیا جاسکتا۔دہریت کی چھٹی دلیل اور اُس کا رڈ چھٹی دلیل جو دہریوں کی طرف سے ہستی باری تعالیٰ کے خلاف پیش کی جاتی ہے وہ بھی دلیل پنجم کی طرح قانون نیچر کے ایک فرضی اندھیر پر مبنی ہے۔کہا جاتا ہے کہ دنیا میں بعض ایسی چیزوں کا وجود پایا جاتا ہے کہ جن کا فائدہ کوئی نہیں ہے اور اُن کی مضرت عیاں ہے۔مثلاً یہ جو دُنیا میں بے شمار ضرررساں حیوانات اور ن اور زہریلی بیل بوٹیاں اور مہلک معاون پائے جاتے ہیں جن کا صرف نقصان ہی نقصان ہے اور فائدہ کچھ بھی نہیں ان کا وجود ظاہر کرتا ہے کہ اس کائنات کے اوپر کوئی خدا نہیں ہے ورنہ یہ چیزیں دنیا میں نہ پائی جاتیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض معترضین کی جہالت کا نتیجہ ہے کیونکہ اگر غور سے کام لیا جائے تو اس بات میں ذرہ بھر شک نہیں رہتا کہ دُنیا کی کوئی چیز بھی در حقیقت بغیر کسی فائدہ اور غرض و غایت کے نہیں ہے اور یہ صرف انسان کے اپنے علم کی کمی ہے کہ وہ بعض چیزوں کی غرض وغایت کو نہیں سمجھتا اور ان کے فائدہ سے جاہل رہتا ہے اور صرف ظاہری طور پر ان کے بعض ضرر رساں اثرات کو دیکھ کر یہ خیال کر لیتا ہے کہ ان چیزوں میں کوئی فائدہ نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ جو لوگ حقائق الاشیاء کی تحقیق میں بڑھے ہوئے ہیں ان کی طرف سے ایسا اعتراض بہت کم ہوتا 226