ہمارا خدا — Page 224
خُدا نے تو انسان کی فطرت میں نیکی کا تم ودیعت کیا اور پھر اس تخم کی آبپاشی اور پرورش اور ترقی کے لئے اپنے پاس سے شریعت نازل فرمائی اور نشانات اور آیات کے ذریعہ لوگوں کو سمجھایا اور ان پر حجت پوری کی کہ قانون شریعت کی پابندی میں ہی ان کی نجات اور فلاح ہے۔باوجود اس کے اگر پھر بھی کوئی شخص خدا کی نازل کردہ شریعت پر عمل پیرا نہ ہوتو یہ اس کا اپنا قصور ہو انہ کہ خُدا کا۔اور اس کی محرومی خود اس کے اپنے فعل کا نتیجہ ہوئی نہ کہ خدا کے فعل کا۔گناہ کیا ہے؟ یہی کہ انسان خدا کے حکم کی نافرمانی کرے اور جوطریق اس نے بتایا ہے اس کے خلاف چلے۔پس گناہ انسان کے اپنے فعل کا نتیجہ ہے نہ کہ خدا کا۔کیا خدا اس وجہ سے ہمیں ہدایت کا رستہ بتانے سے باز رہتا کہ بعض لوگ اس ہدایت کو نہ مانیں گے؟ کیا ایک باپ اپنے بیٹے کو نصیحت کرنے سے صرف اس وجہ سے باز رہ سکتا ہے کہ شائد وہ میری نافرمانی کر کے مجرم بن جائے ؟ یہ نادانی اور جہالت کی باتیں ہیں جس سے ہر عقلمند کو پر ہیز لازم ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ دنیا میں جو گناہ اور معاصم اور ایک دوسرے کے خلاف ظلم وستم کے نظارے نظر آتے ہیں یہ لوگوں کے اپنے افعال کا نتیجہ ہیں اور خدا پر اس کی قطعا کوئی ذمہ داری نہیں اور نہ اس کی وجہ سے کوئی عقلمند خدا کی ہستی کے خلاف استدلال کر سکتا ہے۔خدا کی طرف سے تو سبرا سر رحمت ہی رحمت کا نزول ہوا ہے مگر جو شخص اس رحمت سے فائدہ نہیں اٹھاتا وہ اپنے فعل کا خود ذمہ دار ہے۔اور اگر کوئی شخص یہ کہے کہ خدا نے شریعت کا قانون ایسا کیوں نہیں بنایا کہ کوئی شخص اسے توڑ ہی نہ سکتا اور سب لوگ اس کے مطابق عمل کرنے پر مجبور ہوتے اور اس طرح گناہ کا وجود نیا میں پیدا ہی نہ ہوسکتا اور سارے لوگ نیک اور پارسا ر ہتے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو انسان کے پیدا کرنے کی غرض ہی باطل چلی جاتی جو یہ ہے کہ انسان اپنی کوشش اور جدو جہد سے اپنے لئے اعلیٰ ترقیات کے دروازے کھولے 224