ہمارا خدا — Page 103
حیثیت نہیں۔دراصل اس شبہ کی بنا اس خیال پر ہے کہ چونکہ خدا کو غیر مخلوق مانا جاتا ہے اس لئے ثابت ہوا کہ کسی چیز کا خود بخود اپنے آپ سے بغیر کسی خالق کے ہونا بھی ممکن ہے۔اور جب یہ بات ثابت ہوگئی تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس دنیا کو مخلوق قرار دیکر اس کے اوپر کسی خدا کے وجود پر ایمان لائیں بلکہ ہم اس دنیا کو ہی غیر مخلوق اور قائم بالذات قرار دیکر اس قصہ کو یہیں ختم کر دیتے ہیں۔اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ ہم نے جو دنیا کو مخلوق مانا ہے تو اس بنا پر نہیں کہ چونکہ ہر چیز کا مخلوق ہونا ضروری ہے اس لئے دُنیا بھی مخلوق ہونی چاہئے بلکہ اس لئے کہ دُنیا کے حالات اُسے مخلوق ثابت کر رہے ہیں۔اگر ہم یہ اصول قائم کرتے کہ بلا استثناء ہر ایک چیز کا مخلوق ہونا ضروری ہے خواہ اس کے حالات کیسے ہی ہوں تو پھر بیشک یہ اعتراض ہوسکتا تھا کہ یا تو خدا کو بھی مخلوق مانا جائے اور یا پھر اس اصول کر رڈ کر کے دُنیا کے غیر مخلوق ہونے کے امکان کو تسلیم کیا جائے۔پس یہ اعتراض غلط ہے کہ چونکہ خدا کو غیر مخلوق ماننا پڑتا ہے اس لئے کوئی حرج نہیں کہ دُنیا کو ہی غیر مخلوق سمجھ لیا جائے۔ہر اک چیز اپنے اپنے مخصوص حالات رکھتی ہے اور انہی مخصوص حالات کے ماتحت اس کے متعلق کوئی رائے قائم کی جاسکتی ہے۔پانی کے حالات الگ ہیں اور آگ اور پتھر اور ہو ا کے الگ۔اور یہ ہماری نادانی ہوگی کہ ہم ان سب کو ایک ہی قانون کے ماتحت سمجھ کر ایک ہی معیار سے ناپنے لگ جائیں۔اسی طرح دنیا کی چیزوں کے معیار کے مطابق خدا کے متعلق اور خدا کے معیار کے مطابق دنیا کے متعلق رائے نہیں لگائی جاسکتی بلکہ ہر ایک کو اس کے مخصوص حالات کے مطابق الگ الگ معیار سے پرکھا جائے گا۔اب اس اصل کے ماتحت ہم دیکھتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ خدا مخلوق نہیں مگر دنیا ضرور مخلوق ہے۔خدا کے متعلق تو ہم مندرجہ بالا بیان میں یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ مخلوق نہیں ہوسکتا کیونکہ اول تو اگر ہم خدا کو مخلوق ما نہیں یعنی اس کا کوئی خالق تسلیم کریں تو 103