ہمارا خدا — Page 104
خدائیت کا مفہوم فوراً اُس سے نکل کر اُس کے خالق کی طرف منتقل ہو جاتا ہے یعنی مخلوق کا مفہوم ذہن میں آتے ہی خدا خدا نہیں رہتا۔دوسرے یہ کہ خدا کو مخلوق مان کر اس کی تمام ان صفات کا انکار کرنا پڑتا ہے جو عقل کی رو سے عرشِ الوہیت کے لئے بطور سیتون کے تسلیم کی جاتی ہیں اور جن کے بغیر خدا خدا نہیں رہ سکتا۔الغرض خدا کے متعلق یہ قطعی طور پر ثابت کیا جا چکا ہے کہ وہ مخلوق نہیں ہو سکتا۔اب رہا دنیا کا سوال سو اس کے متعلق بھی مفصل بحث او پر گذر چکی ہے کہ وہ خود اپنے حالات سے اپنے آپ کو مخلوق ثابت کر رہی ہے۔اگر اس کے حالات ایسے نہ ہوتے جن سے اس کا مخلوق ہونا ثابت ہوتا تو ہم بڑی خوشی سے اسے غیر مخلوق مان لیتے لیکن جہاں خدا اپنے حالات سے اپنے آپ کو غیر مخلوق منوارہا ہے وہاں یہ دُنیا زبان حال سے پکار پکار کر یہ شہادت دے رہی ہے کہ میں کسی بالا ہستی کی قدرت خلق کا کرشمہ ہوں اور اُسی کے سہارے پر قائم ہوں۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ دُنیا کی کوئی چیز بھی ایسی نہیں کہ جسے اگر مخلوق مانا جائے تو ہمیں اس کی کسی مخصوص صفت کا انکار کرنا پڑے بمقابلہ خدا کے کہ جسے مخلوق مان کر اس کی تمام اصولی صفات کا انکار کرنا پڑتا ہے۔کمامر۔مثلاً اگر ہم پانی کو مخلوق مانیں تو اس کا کوئی طبعی خاصہ ایسا نہیں جس کا ہمیں انکار کرنا پڑے۔اگر آگ یا ہوا کو مخلوق ما نہیں تو پھر بھی آگ اور ہوا کے تمام خواص برقرار رہتے ہیں۔انسان کو مخلوق ما نہیں تو اس کے انسان ہونے میں قطعاً کوئی حرج لازم نہیں آتا۔زمین اور چاند اور سورج کو مخلوق ما نہیں تو اُن میں سے کسی کی طبعی صفات میں رخنہ واقع نہیں ہوتا۔اسی طرح اگر دیگر عناصر کو مخلوق قرار دیں تو پھر بھی اُن کی ماہیت اسی طرح قائم رہتی ہے۔غرضیکہ دُنیا کی کوئی چیز بھی خواہ وہ ادنی ہے یا اعلیٰ مرکب ہے یا مفرد ایسی نہیں ہے کہ اسے مخلوق ماننے سے اس کی کسی بنیادی صفت کا بطلان لازم آئے بلکہ وہ مخلوق مانی جا کر بھی اُسی طرح قائم و برقرار رہتی ہے جیسا کہ وہ اب عملاً دنیا میں موجود ہے۔لیکن اگر 104