ہمارا خدا — Page 102
میں بھی مستقل اور آزاد نہیں سمجھا جاسکتا بلکہ اس کی ہر صفت اس بالا ہستی کی مرضی اور رحیم پر موقوف مانی جائے گی جس نے خدا کو پیدا کیا ہے کیونکہ مخلوق کی ہر صفت بھی مخلوق ہوتی ہے اور خالق کے قبضہ تصرف کے نیچے ماننی پڑتی ہے۔الغرض خدا کو مخلوق ماننے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ خدا کی تمام وہ صفات جن پر عقل کی رُو سے عرشِ الوہیت کا قیام تسلیم کرنا پڑتا ہے باطل چلی جاتی ہیں اور خدا اپنی خدائیت کے تخت سے معزول ہو کر ان معمولی مخلوق ہستیوں کی صف میں آکھڑا ہوتا ہے جو اپنی ہر بات میں اپنے خالق و مالک کا سہارا ڈھونڈتی ہیں اور قطعاً کوئی آزادانہ زندگی نہیں رکھتیں۔خلاصہ کلام یہ کہ خواہ کسی جہت سے بھی دیکھا جائے خدائیت اور مخلوقیت کا مفہوم ایسی طرح ایک دوسرے کے مقابل اور ضد میں واقع ہوا ہے کہ کسی طرح بھی ایک وجود میں جمع نہیں ہوسکتا۔پس ہم مجبور ہیں کہ جس ہستی کو ہم خدا قرار دیں اُسے غیر مخلوق سمجھیں اور جسے مخلوق سمجھیں اس کا نام خدا نہ رکھیں۔وھوالمراد۔کیوں نہ اس دُنیا کو ہی غیر مخلوق سمجھ لیا جائے؟ اس کے بعد میں ایک اور شبہ کا جواب دینا چاہتا ہوں جو اکثر لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوسکتا ہے اور جو یورپ کے دہریوں کی طرف سے عموماً پیش کیا جاتا ہے۔اور وہ یہ کہ اگر ہم نے خدا کو غیر مخلوق قرار دیکر اُسے خود بخود ہمیشہ سے بغیر کسی خالق و مالک کے ماننا ہے تو کیوں نہ اس دنیا کو ہی قائم بالذات اور غیر مخلوق قرار دے لیا جائے تا کہ اس ساری بحث کا یہیں نیچے ہی خاتمہ ہو جائے۔یہ وہ شبہ ہے جو اس جگہ پیدا ہوسکتا ہے اور جو واقعی اکثر لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوا کرتا ہے اور دہریوں کی طرف سے بھی عموماً یہی شبہ پیش کیا جاتا ہے۔لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ شبہ سراسر قلت مدیر پر مبنی اور محض عامیانہ تخیل کا نتیجہ ہے اور اس سے زیادہ اس کی کوئی 102