ہمارا گھر ہماری جنت — Page 3
آپ مزید فرماتے ہیں:۔ہمیں تو کمال بے شرمی معلوم ہوتی ہے کہ مرد ہو کر عورت سے جنگ کریں۔ہم کو خدا نے مرد بنایا ہے اور در حقیقت یہ ہم پر اتمام نعمت ہے۔اس کا شکر یہ ہے کہ ہم عورتوں سے لطف اور نرمی کا برتاؤ کریں“۔پھر فرمایا:۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 307) عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعا نہیں کی مختصر الفاظ میں فرما دیا ہے۔وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ (البقرة :۲۲۰) کہ جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر ہیں۔بعض لوگوں کا حال سنا جاتا ہے کہ ان بیچاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے ہیں۔گالیاں دیتے ہیں۔حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پردہ کے حکم ایسے ناجائز طریق سے برتتے ہیں کہ ان کو زندہ درگور کر دیتے ہیں۔چاہیئے کہ بیویوں سے خاوند کا ایسا تعلق ہو جیسے دو بچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔انسان کے اخلاق فاضلہ اور خدا تعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں۔اگر انہی سے اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ سے صلح ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کے لئے اچھا ہے“۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں :۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 300 تا 301) ”سب سے زیادہ بنی نوع انسان کے ساتھ بھلائی کرنے والا وہی ہوسکتا ہے جو پہلے اپنی بیوی کے ساتھ بھلائی کرے مگر جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ ظلم اور شرارت کا برتاؤ رکھتا ہے ممکن نہیں کہ وہ دوسروں کے ساتھ بھی بھلائی کر سکے۔کیونکہ خدا نے آدم کو پیدا کر کے سب سے پہلے 3