ہمارا گھر ہماری جنت — Page 2
ٹھہرتی ہے اور اسے زیادہ قربانی بھی دینی پڑتی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔عورتوں اور بچوں کے ساتھ تعلقات اور معاشرت میں لوگوں نے غلطیاں کھائی ہیں اور جادہ مستقیم سے بہک گئے ہیں۔قرآن شریف میں لکھا ہے۔عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ۔(النساء:۲۰) گراب اس کے خلاف عمل ہو رہا ہے۔دو قسم کے لوگ اس کے متعلق بھی پائے جاتے ہیں۔ایک گروہ تو ایسا ہے کہ انہوں نے عورتوں کو بالکل خلیج الرسن ( یعنی آزاد ) کر دیا ہے۔دین کا کوئی اثر ہی ان پر نہیں ہوتا اور وہ کھلے طور پر اسلام کے خلاف کرتی ہیں اور کوئی ان سے نہیں پوچھتا۔بعض ایسے ہیں کہ انہوں نے خلیج الرسن تو نہیں کیا مگر اس کے بالمقابل ایسی سختی اور پابندی کی ہے کہ ان میں اور حیوانوں میں کوئی فرق نہیں کیا جا سکتا اور کنیز کوں اور بہائم سے بھی بدتر ان سے سلوک ہوتا ہے۔مارتے ہیں تو ایسے بے درد ہو کر کہ کچھ پتہ ہی نہیں کہ آگے کوئی جاندار ہستی ہے یا نہیں۔غرض بہت ہی بری طرح سلوک کرتے ہیں۔یہاں تک کہ پنجاب میں مثل مشہور ہے کہ عورت کو پاؤں کی جوتی کے ساتھ تشبیہہ دیتے ہیں کہ ایک اتار دی دوسری پہن لی۔یہ بڑی خطر ناک بات ہے اور اسلام کے شعائر کے خلاف ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساری باتوں کے کامل نمونہ ہیں۔آپ کی زندگی میں دیکھو کہ آپ عورتوں کے ساتھ کیسی معاشرت کرتے تھے۔میرے نزدیک وہ شخص بزدل نامرد ہے جو عورت کے مقابلہ میں کھڑا ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی کو مطالعہ کرو تمہیں معلوم ہو کہ آپ ایسے خلیق تھے باوجود یکہ آپ بڑے بارعب تھے لیکن اگر کوئی ضعیفہ بھی آپ سمسایا ہی تم کو کھڑا کرتی تو آپ اس وقت تک کھڑے رہتے جب تک کہ وہ اجازت نہ دے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 387) 2