ہمارا گھر ہماری جنت — Page 28
صبر و برداشت کا مظاہرہ محمود چار ایک برس کا تھا۔حضرت معمولاً اندر بیٹھے لکھ رہے تھے میاں محمود دیا سلائی لے کر وہاں تشریف لائے اور آپ کے ساتھ بچوں کا ایک غول بھی تھا۔پہلے کچھ دیر تک آپس میں کھیلتے جھگڑتے رہے پھر جو کچھ دل میں آئی ان مسودات کو آگ لگا دی اور آپ لگے خوش ہونے اور تالیاں بجانے اور حضرت لکھنے میں مصروف ہیں۔سر اُٹھا کر دیکھتے بھی نہیں کیا ہو رہا ہے اتنے میں آگ بجھ گئی اور قیمتی مسودے راکھ کا ڈھیر ہو گئے اور بچوں کوکسی اور مشغلہ نے اپنی طرف کھینچ لیا۔حضرت کو سیاق عبارت کے ملانے کیلئے کسی گزشتہ کاغذ کے دیکھنے کی ضرورت ہوئی۔اس سے پوچھتے ہیں خاموش، اس سے پوچھتے ہیں دبکا جاتا ہے آخر ایک بچہ بول اُٹھا کہ میاں صاحب نے کاغذ جلا دیے۔عورتیں، بچے اور گھر کے سب لوگ حیران اور انگشت بدندان که اب کیا ہوگا اور در حقیقت عادیا ان سب کو علی قدر مراتب بری حالت اور مکر وہ نظارہ کے پیش آنے کا گمان اور انتظار تھا اور ہونا بھی چاہیے تھا مگر حضرت مسکرا کر فرماتے ہیں: ”خوب ہوا اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی بڑی مصلحت ہوگی اور اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس سے بہتر مضمون ہمیں سمجھائے“۔) سیرت حضرت مسیح موعود صفحه 106 از حضرت یعقوب علی عرفانی صاحب) میں ایسے پردہ کا قائل نہیں ہوں حضرت خلیفہ امسیح الاول نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی سفر میں تھے۔اسٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دیر تھی۔آپ بیوی صاحبہ ( حضرت اماں جان ) کے ساتھ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگے۔یہ دیکھ کر مولوی عبد الکریم صاحب جنکی طبیعت غیور اور جوشیلی تھی 28