ہمارا گھر ہماری جنت

by Other Authors

Page 46 of 57

ہمارا گھر ہماری جنت — Page 46

وہ مسکرائے اور فرمانے لگے یہ تو سیدھی سی بات تھی مجھے یہ تو پتہ تھا کہ تمہیں کون کون سی مٹھائی پسند ہے اور میں یہ بھی جانتا تھا کہ تم اپنی قیمتی اشیاء کہاں کہاں رکھتی ہو۔بس میں نے تمہاری پسندیدہ مٹھائیاں وہیں رکھ دیں اور اشاروں کنایوں سے تمہیں آمادہ کر لیا کہ تم ان جگہوں کا نام لو جہاں میں نے مٹھائیاں رکھی تھیں۔اگر ہم کبھی ابا جان کو ہنسی مذاق میں چھیڑ تیں تو بڑے خوش ہوتے۔ایک دفعہ یوں ہوا کہ میری بہن فائزہ نے سوائے ایک ٹافی کے ڈبے کی ساری ٹافیاں کھا لیں اور ان کی جگہ بالکل انہیں کی طرح کنکر لپیٹ کر انہیں اس صحیح سلامت اکلوتی ٹافی کے ہمراہ ڈبے میں رکھ کر ڈبہ ابا جان کی میز پر سجایا اور لگے ہاتھوں بڑا سا سوالیہ نشان بھی ڈبے پر لگا دیا۔پھر اس راز کو ایک ایک کر کے سب سہیلیوں تک پہنچادیا اور خود بڑی بے تابی سے انتظار کرنے لگیں کہ دیکھئے اب ابا جان کیا کرتے ہیں۔تھوڑی دیر بعد کیا دیکھتی ہیں کہ ڈبہ اپنی اصل جگہ پر واپس رکھ دیا گیا ہے۔لیکن اب کی بار اس کے ساتھ ایک پر چہ بھی منسلک تھا جس پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے۔” میں نے اپنے حصہ کی ایک ٹافی کھالی ہے۔باقی ٹافیاں آپ کھالیں۔“ غور سے دیکھا تو وہ اکلوتی ٹافی غائب تھی۔ایک دلچسپ مزاح ایک مرد خدا صفحہ 213-211) مجھے خوب اچھی طرح یاد ہے کہ ابا جان ایک مرتبہ گھنی اور لمبی قسم کی دو مصنوعی داڑھیاں اور ساتھ داڑھیاں چپکانے کا مسالہ بھی لائے۔ان میں سے ایک داڑھی سفید تھی اور ایک سیاہ۔ابا جان نے ایک داڑھی اُمی جان کو لگا دی اور دوسری ہماری بوڑھی انا کو۔اور چہروں کو یوں 46