ہمارا گھر ہماری جنت — Page 45
حضرت خلیفہ مسیح الرابع محبت کا ایک انداز (رحمہ اللہ تعالی) صاحبزادی شوکت جہاں اپنے ابا جان حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی کے بارہ خلیفۃالمسیح کے میں بتاتی ہیں:۔بچپن کی بڑی ہی پر لطف یادیں ہیں۔کس کس کا ذکر کروں ایک دوسرے سے چھیڑ چھاڑ بھی چلتی۔ہم بہنیں ابھی بہت ہی کم عمر تھیں کہ ایک دن ابا جان دفتر سے واپس آئے اور کہنے لگے آؤ تمہیں جادو کا کرتب دکھا ئیں۔بتاؤ کون سی مٹھائی کھانے کو تمہارا جی چاہتا ہے اور یہ مٹھائی تمہیں کس جگہ پر رکھی ملے۔میں نے فورا جواب دیا۔کہ میرا دل تو پیلے رنگ کی ایک مٹھائی کھانے کو چاہ رہا ہے اور اگر وہ مجھے ایک خاص الماری میں پڑی ہوئی مل جائے تو کتنا مزہ آئے۔میری چھوٹی بہن فائزہ بولی مجھے تو مٹھائی چاہیے جس میں شکر ہی شکر اور کریم ہی کریم ہو اور یہ مٹھائی مجھے ڈائٹنگ روم کی الماری کے تیسرے خانے میں رکھی ہوئی ملنی چاہیے۔ابا جان نے ہوا میں باز و لہرا کر کہا۔ٹھیک بالکل ٹھیک۔تمہاری من کی مرادیں پوری ہو گئیں۔جاؤ اور اپنی اپنی مقررہ جگہ پر سے مٹھائی اٹھا لو۔یہ سنتے ہی ہم دونوں بہنیں تیر کی طرح سیدھی اپنی اپنی مقررہ جگہ کی طرف لپکیں۔کیا دیکھتی ہیں کہ ہماری دل پسند مٹھائیاں ہماری بتائی ہوئی جگہوں پر پڑی ہیں۔بس پھر کیا تھا ہم نے شور مچادیا اور اپنی سہیلیوں کو بڑے فخر سے بتایا کہ ہمارے ابا جان کو جادو آتا ہے۔بڑی ہوئیں تو ہم نے ابا جان سے پوچھا کہ آپ نے یہ کارنامہ کیسے سرانجام دیا تھا؟ 45