ہمارا گھر ہماری جنت

by Other Authors

Page 47 of 57

ہمارا گھر ہماری جنت — Page 47

رنگ دیا کہ پہچان ناممکن ہو گئی۔دونوں کو سفید چادر میں اوڑھا دیں اور ہاتھوں میں لمبے لمبے عصائے پیری تھما دیے پھر یہ دونوں ریشائیل بزرگ اپنے عجیب وغریب سفر پر روانہ ہو گئے اور اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے دروازوں پر باری باری دستک دینا شروع کی۔ابا جان اور میں ہم دونوں ان کے ساتھ ساتھ لیکن چھپ کر سائے کی طرح ان کا پیچھا کرتے رہے۔سب سے پہلے (حضرت خلیفہ ثالث کی بڑی اور سن رسیدہ بہن کے دروازے کو جا کھٹکھٹایا۔انہوں نے خود دروازہ کھولا۔لیکن جب دیکھا کہ وہ عجیب الخلقت پیران تسمہ پا ایک جناتی زبان میں ان سے مخاطب ہیں تو جھٹ سے کواڑ بند کر دیے۔مارے ہنسی کے ہمارا برا حال ہورہا تھا۔ایک طرح کی ”قیامت صغری بر پا کرنے کے بعد یہ دونوں بوڑھے اگلے مکان پر جادھمکے۔ابا جان اور میں بدستور دبے پاؤں ان کے پیچھے پیچھے چلتے رہے۔اگلے مکان پر دستک دی گئی۔اب کی بار پہلے سے بھی بڑھ کر دھما کہ خیز رد عمل ہوا۔پھر کیا تھا ایک دروازے سے دوسرا اور دوسرے سے تیسرا دروازہ۔ہوتے ہوتے ان کا پیدا کردہ شور و غوغا بھی نئی سے نئی بلندیوں کو چھونے لگا اور ان کی حرکات وسکنات بھی نئے سے نئے زاویوں سے روشناس ہوتی چلی گئیں اور ان میں نکھار آتا چلا گیا۔عملی مذاق کا یہ سلسلہ رات گئے تک چلتا رہا یہاں تک کہ ہم سیر ہو گئے۔اب ہم تھک چکے تھے اور ہمارے چھپنے کی چنداں ضرورت بھی نہیں تھی چنانچہ ہم سب مل کر ابا جان اور میں دونوں ان نام نہاد ” بوڑھوں کے ہمراہ دوبارہ گھر گئے لیکن ہمارے خاندان کے لوگوں کو یقین ہی نہیں آتا تھا کہ یہ حقیقت نہیں تھی بلکہ ایک عملی مذاق تھا۔ایک مرد خدا صفحہ 216-215) ☆☆☆ 47