ہمارا آقا ﷺ

by Other Authors

Page 135 of 158

ہمارا آقا ﷺ — Page 135

ہمارا آقا عدل 135 کا علاج وہ اس طرح کرتے کہ نہایت گندے اور غلیظ کپڑے یا بد بودار ہڈیاں اُس کے گلے میں باندھتے اور یقین کرتے کہ ان کے اثر سے نا پاک روح اس آدمی کو چھوڑ کر چلی جائے گی۔(4) سانپوں کو جنوں کا دوست سمجھتے تھے اور یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ اگر سانپ کو جان سے مارا گیا تو جن اُس کا بدلہ ضرور لے گا۔اس کا توڑ وہ اس طرح کرتے کہ سانپ کو مارتے ہی فورا گو بر میں چھپا دیتے۔(5) جس عورت کے بچے ہو ہو کر مر جاتے۔اُس کے علاج کے لیے ان کے ہاں یہ ٹوٹکا تھا کہ وہ عورت کسی مقتول کی لاش کو اپنے پاؤں سے روندے اُن کا اعتقاد تھا کہ ایسا کرنے سے اُس عورت کا یہ مرض دور ہو جائے گا۔(6) جب اُن پر کوئی قومی دشمن حملہ کرتا اور اُس کے مقابلے کی طاقت وہ نہ رکھتے تو اُن کی عورتیں میدانِ جنگ میں جاکر دونوں لشکروں کے درمیان بیٹھ کر پیشاب کرتیں ، اُن کا اعتقاد تھا کہ ایسا کرنے سے جنگ پیشاب میں بہہ جائے گی اور صلح ہو کر جنگ کی آگ بجھ جائے گی۔