ہمارا آقا ﷺ — Page 136
136 (7) ہمارا آقاعل الله جب کسی بدوی کے پاس خوش قسمتی سے ایک ہزار اونٹ ہو جاتے تو چونکہ یہ اُس وقت کے لحاظ سے بہت بڑی دولت تھی۔لہذا نظر بد سے بچنے کے لیے وہ اپنے اونٹوں میں سے ایک کی ایک آنکھ پھوڑ دیتے۔خواہ اُسے کتنی تکلیف ہوتی اور وہ درد کے مارے کتنا ہی چیختا چلا تا۔جب اونٹوں کی یہ تعداد بدوی کے پاس ایک ہزار سے بڑھ جاتی تو پھر وہ اُس کی دوسری آنکھ بھی پھوڑ دیتا۔اس طرح ایک اونٹ کو بیکار کر دینے سے اُن کے خیال میں سارے اونٹ نظر بد سے محفوظ ہو جاتے تھے۔(8) جب کسی کو بخار ہو جاتا تو وہ یہ کام کرتا کہ ایک ڈورا لے کر کسی درخت سے باندھ آتا اور یہ اعتقاد رکھتا کہ جو کوئی اس ڈورے کو کھولے گا اسی کو میرا بخار چڑھ جائے گا اور میں تندرست ہو جاؤں گا۔(9) سب سے زیادہ فسادانگیز اور تباہ کن اعتقاد اُن کا یہ تھا کہ جب کوئی آدمی کسی کے ہاتھ سے مارا جاتا ہے تو قتل ہونے والے کے سر میں سے ایک اتو نکلتا ہے ( جسے وہ لوگ ہامہ کہتے تھے ) یہ اتو جنگلوں میں انتقام انتقام پکارتا پھرتا تھا۔