ہمارا آقا ﷺ — Page 72
ہمارا آقا ع 72 ایک دفعہ ایک شخص نے جس کا نام عبد اللہ تھا۔اس نوجوان سے کوئی تجارتی معاملہ کرنا چاہا۔اس کے متعلق باہم گفتگو کرتے کرتے اُسے کوئی کام یاد آیا۔کہنے لگا: ” آپ یہیں ٹھہریں ، میں ذرا ایک ضروری کام ہو آؤں تو پھر آپ سے باقی معاملہ طے کروں گا۔“ نوجوان نے کہا اچھا میں تمہارا انتظار کروں گا۔“ وہ آدمی چلا گیا اور جا کر بھول گیا کہ میں ایک نو جوان تاجر کو ٹھہرا آیا ہوں۔اتفاق سے تین دن کے بعد اُس کا اُدھر سے گذر ہوا تو اس شریف انسان کو اُس نے اُسی جگہ پایا جہاں چھوڑ گیا تھا۔اُسے فوراً اپنا وعدہ یاد آیا اور کہنے لگا معاف کرنا آپ کو نہایت سخت تکلیف ہوئی ، دراصل میں بالکل بھول گیا تھا۔اس پر نوجوان نے بڑی نرمی سے صرف اتنا فرمایا کہ میں یہاں تین دن سے تمہارا منتظر ہوں۔صادق اور امین کے خطابات قوم نے میرے آقا عے کو اس وقت دیئے تھے ، جب وہ جوان تھا۔یہ دونوں خطاب وَ لَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمُ عُمُراً مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ کے دعوے کی روشن دلیل تھے۔اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ نبوت کے بعد آنحضرت علیہ نے