ہمارا آقا ﷺ — Page 71
ہمارا آقا ع 71 (20) صادق اور امین جوں جوں اس نوجوان کی عمر بڑھتی جاتی تھی توں توں اس کی نیکی اور پر ہیز گاری میں ترقی ہوتی رہتی تھی۔کبھی کسی نے اس لڑکے کو کوئی لغو کام کرتے نہیں دیکھا۔نہ کبھی کسی نے اُس کی زبان سے کوئی جھوٹ بات سُنی۔اس کا معاملہ ہمیشہ نہایت کھرا ہوتا اور جب وہ کسی سے سودا کرتا تو بڑی نرمی اور خوش اسلوبی سے کرتا۔رفتہ رفتہ اُس کی امانت ، دیانت اور سچائی کا شہرہ سارے مکہ میں ہو گیا اور سب لوگ خود بخود اس کو صادق اور امین کہہ کر پکارنے لگے۔اُسکی نیکی کی وجہ سے ہر شخص اس کی عزت کرتا اور بڑے بوڑھوں کے دلوں میں بھی اس کی بڑی قدر و منزلت تھی۔بڑے ہو کر اس لڑکے نے تجارت کا شغل اختیار کیا جو اُس کا آبائی پیشہ تھا مگر تجارت کے لئے اُس کے پاس روپیہ نہ تھا۔اس لئے اس نے دوسرے لوگوں کی شراکت میں یہ کام شروع کیا اور مالِ تجارت لے کر شام ، بصری ، بحرین اور یمن وغیرہ کا سفر کرنے لگا۔اُس زمانہ میں جو جو آدمی اس نوجوان کے ساتھ تجارت میں شریک رہے۔اُن کو بھی معاملہ میں اُس سے ذرا بھی شکایت پیدا نہیں ہوئی ، نہ کبھی کسی شریک کو اس نوجوان کی امانت اور دیانت پر طلبہ ہوا۔