ہمارا آقا ﷺ — Page 58
ہمارا آقاعل الله 58 (21) جہالت کا کرشمہ عرب کے لوگوں کی فطرت میں یہ بات داخل تھی کہ ہر وقت دنگا فساد، مارکٹائی اور قتل و غارت میں مشغول رہتے تھے۔ذراسی بات پر فوراً تلوار میں کھینچ لیتے اور جدال و قتال کے لئے آستینیں چڑھا لیتے تھے۔اُن کی عجیب و غریب جہالت کا ایک دلچسپ واقعہ سنو اور اُن کی حماقت پر ہنسو! مکہ سے تین دن کے راستے پر مقام عکاظ میں ہر سال ایک مشہور میلہ لگا کرتا تھا جس میں سارے ملک سے لوگ جمع ہوتے۔لین دین اور خرید وفروخت بھی خوب ہوتی اور بڑے بڑے خطیب ، بڑے بڑے شاعر بڑے بڑے ادیب بھی اپنے کمالات کا اظہار کرتے۔نہایت پُر زور قصائد پڑھے جاتے اور زبر دست علمی مقابلے ہوتے تھے۔پھر بڑے بڑے نقاد فیصلہ کرنے بیٹھتے اور جس شاعر کا قصیدہ سب سے اعلیٰ اور بہتر قرار پاتا اُسے لکھ کر بڑے فخر سے کعبہ میں لڑکا دیا جاتا۔ایسے ایسے سات قصیدے کعبہ میں آویزاں تھے جنہیں سبعہ معلقہ کہتے ہیں۔اس عکاظ میں حیرہ کا بادشاہ نعمان بن منذ را پنا مال فروخت کرنے کے لیے بھیجا کرتا تھا۔لیکن اسے یہ مال بڑی حفاظت کے ساتھ بھیجنا پڑتا تھا۔کیونکہ راہ میں لٹنے کا ہر وقت خطرہ رہتا تھا۔