ہمارا آقا ﷺ — Page 57
ہمارا آقا ع 57 جب روانگی کا وقت آیا اور ابوطالب اونٹ پر چڑھ کر جانے لگے تو بھیجے نے آگے بڑھ کر اوٹ کی تکمیل پکڑ لی اور بڑے ہی درد بھرے لہجہ میں کہا:۔چچا! آپ تو جار ہے ہیں مگر مجھے کس پر چھوڑ چلے ؟“ یہ کہتے کہتے بچے کے آنسو نکل آئے۔یہ الفاظ نہیں تیر تھے جو بھتیجے کے منہ سے نکلے اور چچا کے دل میں پیوست ہو گئے۔ابو طالب کا جی بھتیجے کی بے کسی پر کٹ گیا فوراً اونٹ کو بٹھایا اور اُتر کر بھتیجے کو چھاتی سے لگالیا، پیار کیا اور فرمانے لگے : نہیں بیٹا ! رومت، میں تجھے رنجیدہ نہیں دیکھ سکتا ، چل میرے ساتھ ہی چل“ یہ کہہ کر بھیجے کو اونٹ پر اپنے آگے بٹھا لیا اور شام روانہ ہو گئے یہ تھا میرے آقا علی کا پہلا سفر۔