ہمارا آقا ﷺ — Page 56
ہمارا آقا عال 56 کرتے ، جنگلوں میں سفر کرتے ، وادیوں میں پھرتے اور بیابانوں میں سے گزرتے تھے۔مگر انہیں کوئی کچھ نہ کہتا تھا۔وہ امن واطمینان کے ساتھ مال تجارت سے لدے پھندے سے بیرونی ملکوں میں جاتے اور وہاں سے مال لا کر مکہ میں آتے۔خیریت سے جاتے اور خیریت سے چلے آتے تھے۔اُس مار دھاڑ اور لوٹ کھسوٹ کے پُر آشوب زمانہ میں یہ امن ہزار غنیمت تھا۔ابو طالب بھی اسی قوم کے ایک معزز فرد تھے اور اکثر تجارت کے لئے قافلہ کے ساتھ شام جایا کرتے تھے۔اپنے والد کے انتقال کے بعد جب اُن کو شام کا تجارتی سفر پیش آیا تو اُس وقت اُن کے بھتیجے کی عمر دس برس کی تھی۔ابو طالب کو اگر چہ بھتیجے سے کمال درجہ محبت تھی اور وہ ان کو اپنے سے جدا کرنا نہیں چاہتے تھے۔مگر راستہ دشوار اور منزل کٹھن تھی اور بھتیجے کی ذراسی تکلیف بھی چا کو گوارا نہ تھی۔اس لیے انہوں نے چاہا کہ بھتیجے کوگھر پر ہی چھوڑ جائیں اور اس کے دوسرے چھاؤں کو اس کی حفاظت اور خبر گیری کی تاکید کر جائیں۔چنانچہ سفر کی تیاریاں ہوتی رہیں سامان بندھتار ہا اور یہ سب کچھ نھے بچے کے سامنے ہوتا رہا مگر وہ کچھ نہ بولا اور چُپ رہا۔