ہمارا آقا ﷺ

by Other Authors

Page 127 of 158

ہمارا آقا ﷺ — Page 127

ہمارا آقا ع 127 لنڈھائے جاتے۔انتہا یہ ہے کہ اپنے عزیزوں اور دوستوں کی قبروں پر بھی شراب چھڑک کر محبت کا اظہار کرتے تھے۔قبروں پر شراب چھڑ کنے کے علاوہ ان کو اونٹوں اور گھوڑوں کے خون سے بھی تر رکھتے تھے۔جوا کھیلنا اُن کے نزدیک نہایت مقدس اور بڑا متبرک مشغلہ تھا۔جو آدمی جو اُ نہیں کھیلتا تھا اُسے ذلیل سمجھتے اور بڑی حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔جو نہ کھیلنے والے کی برادری اور قبیلے میں کوئی وقعت نہیں ہوتی تھی اور ایسا آدمی سب جگہ بدنام ہو جاتا تھا۔جوا کھیلنے میں مال تو الگ رہا، بیویاں تک ہار دیتے تھے۔جب کوئی شخص مرنے لگتا تو اپنی لاش پر نوحہ اور ماتم کرنے کی وصیت کر جایا کرتا تھا۔چنانچہ اُس کے انتقال کے بعد خاندان کی ساری عورتیں اُس کے مکان میں جمع ہوتیں ، اپنے سر کے بال کھول ڈالتیں ، اور سر میں راکھ بھر کر ماتم کرنے بیٹھ جاتیں اور اتنے زور شور کے ساتھ سیاپا ڈالتیں کہ محلہ گونج اُٹھتا۔ماتم کرتے وقت اپنے منہ پر طمانچے مارتیں ، گریبان پھاڑ ڈالتیں ، جو عورتیں بہت قریبی رشتہ دار ہوتیں وہ اپنا سر بھی منڈوا دیتی تھیں۔جب جنازہ اٹھتا تو ساتھ جانے کے لئے نوحہ کرنے والی عورتیں اُجرت پر بلوائی جاتیں اور سارے خاندان والے مرد وعورت ننگے پاؤں