ہمارا آقا ﷺ — Page 126
ہمارا آقا ع 126 جس کی چھت بہت نیچی ہوتی ، بیٹھ جاتی۔اس عرصہ میں نہ نہاتی ، نہ کپڑے بدلتی ، نہ ناخن کٹواتی اور نہ خوشبو لگاتی۔جب اس حالت میں ایک سال گزر چکتا تو ایک گدھا اُس کے پاس لایا جاتا جس سے وہ اپنا جسم اچھی طرح رگڑتی ، اس کے بعد اونٹ کی مینگنیاں لائی جاتیں ، عورت کھڑی ہو کر اپنے ہاتھ پھیلا دیتی اور وہ مینگنیاں اُس کی ہتھیلیوں پر رکھ دی جاتیں ، عورت وہ مینگنیاں اپنے کندھوں کے اوپر سے اپنے پیچھے پھینک دیتی۔اس عمل کے ساتھ عدت ختم ہو جاتی۔ماں باپ کا ترکہ اُن کے ہاں صرف اُن جوان لڑکوں کو ملتا جو لوٹ مار میں خوب چاق و چوبند ہوتے اور دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتے۔عورتوں ،لڑکیوں اور چھوٹے بچوں کو ورثہ سے محروم رکھتے اور انہیں کچھ نہ دیتے۔سود لینے اور سود در سود وصول کرنے میں یہودیوں اور بیٹوں کے بھی کان کاٹتے تھے۔شراب اس قدر کثرت کے ساتھ پیتے تھے کہ اتنی زیادتی کے ساتھ ہم پانی بھی نہیں پیتے۔بخیل سے بخیل اور کنجوس سے کنجوس شراب پینے میں اپنا مال بے دریغ لٹا تا تھا اور اُس پر فخر کرتا تھا۔شراب کی محفلیں جگہ جگہ بڑے زور شور سے منعقد ہوتیں اور اُن میں خُم کے کم بڑی آزادی سے