حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 288

حمامة البشرى ۲۸۸ اردو ترجمه فلم سألوا ربهم أن يجعلهم من هذه تو انہوں نے اپنے رب سے یہ سوال کیوں کیا کہ الأمة وأما كراهتنا من بعض وہ اُنہیں اِس اُمت سے بنا دے۔جہاں تک مسیح معجزات المسيح فأمر حق کے بعض معجزات کو پسند نہ کرنے کی بات ہے تو یہ وكيف لا نكره أمورًا لا توجد درست بات ہے، ہم اُن اُمور کو کیسے پسند کر سکتے حلتها في شريعتنا مثلا۔۔قد کُتب ہیں جو ہماری شریعت میں حلال نہیں ہیں۔مثلاً في إنجيل يوحنا الإصحاح الثاني انجيل يوحنا کے دوسرے باب میں ہے کہ عیسی کو أن عيسى دعى مع أُمّه إلى العُرس آپ کی والدہ کے ساتھ ایک شادی میں مدعو کیا گیا وجعل الماء خمرًا من آنية ليشرب اور آپ نے ایک برتن کے پانی کو شراب بنادیا تا الناس منها۔فانظر۔۔كيف لا نكره که لوگ اس میں سے پئیں۔سود یکھ کہ ہم اس قسم مثل هذه الآيات فإنا لا نشرب کے معجزات کو نا پسند کیوں نہ کریں کیونکہ نہ تو ہم الخمر، ولا نحسبه شيئا طيبا، شراب پیتے ہیں اور نہ ہی ہم اسے کوئی طیب شے فكيف نرضى بمثل هذه الآية؟ سمجھتے ہیں۔پس ہم اس قسم کے معجزے پر کیسے وكم من أمور كانت من سنن راضی ہو جائیں؟ اور کتنے ہی ایسے امور ہیں جو الأنبياء ، ولكنا نكرهها ولا نرضى سنن انبیاء میں سے ہیں لیکن ہم انہیں ناپسند بها، فإن آدم صفی الله۔۔كان کرتے ہیں۔اور اُن پر راضی نہیں۔آدم صفی اللہ يُزوّج بنته ابنه ونحن لا نحسب اپنی بیٹی کی شادی اپنے بیٹے سے کر دیتے تھے لیکن هذا العمل حسنًا طيبا في زماننا، ہم اپنے اس زمانے میں اس عمل کو اچھا اور طیب بل كُنا كارهين۔خیال نہیں کرتے۔بلکہ ہم اسے نا پسند کرتے ہیں۔فلكل وقت حكم، ولكلّ پس ہر وقت کا الگ حکم اور ہر اُمت کا الگ أمة منهاج، وكذلك نكره أن طریق کار ہے۔اور اسی طرح ہمیں یہ نا پسند ہے يكون لنا آية خَلق الطيور، کہ ہمارے لئے پرندے پیدا کرنے کا معجزہ ہو۔