حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 198

حمامة البشرى ۱۹۸ اردو ترجمه بل جاء في البخاري عن ابن بلکہ بخاری میں تو ابن عباس سے آیت عباس في تفسير آية يَا عِيسَى يَعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ کی تفسیر میں إِنِّي مُتَوَفِّيكَ۔مُمِيْتُكَ، مُتَوَفِّيكَ کے معنی مُمِيتُكَ کے آئے ہیں۔بقية الحاشية صـفـحـه ۱۹۵ولیس بقیہ حاشیہ صفحہ ۱۹۵۔مرفوع نہیں ہوتا ، لہذا ان کے بـمـرفـوع، فثبت عندهم من الشكل الأول نزدیک اس شکل اوّل سے جس کا نتیجہ بالکل واضح ہے الذى هو بين الإنتاج أن عيسى (نعوذ بالله) یہ ثابت ہے کہ عیسی ( نعوذ باللہ ) ملعون ہیں اور مرفوع ملعون وليس بمرفوع۔فأراد الله أن يزيل ( الی اللہ ) نہیں ہیں۔پس اللہ نے اس وہم کے ازالے هذا الوهم ويبرء عيسى من هذا البهتان اور عیسیٰ کی اس بہتان سے بریت کا ارادہ فرمایا۔بقية الحاشية صفحه ۱۹۴ ـ وهو كتاب بقیہ حاشیہ صفحہ ۱۹۴۔کیونکہ وہ ( قرآن ) اللہ کی کتاب ہے الله وشأنه أرفع من هذا، وإذا ثبت أن اور اس کی شان اس سے بہت ارفع ہے۔اور جب ثابت ہو كتاب اللـه مــنــزه عن الاختلافات فوجب گیا کہ اللہ کی کتاب اختلافات سے پاک ہے تو پھر ہم پر علينا أن لا نختار فی تفسیرہ طریقا یوجب لازم ہے کہ ہم اس کی تفسیر میں کوئی ایسا طریق اختیار نہ التعارض والتناقض، وما كان لليهود غرض کریں جو تعارض اور تناقض کو لازم ٹھہراتا ہو۔ان کے جسم وبحث في رفع جســمــه أو عدم رفعه، کے رفع یا عدم رفع سے یہود کو کوئی غرض اور بحث نہ تھی۔بقية الحاشية تحت الحاشية۔بل إنه بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔بلکہ انہوں نے تو اپنی کتاب مدارج كتب في كتابه مدارج السالكين: لو كان السالکین میں تحریر کیا ہے کہ اگر موسیٰ اور عیسی علیہما السلام نوسى وعيسى حيين لكانا من أتباع نبينا زندہ ہوتے تو وہ دونوں ہمارے نبی ﷺ کے متبعین میں صلى الله عليه وسلم وأشار إلى الحديث سے ہوتے۔اور (اپنے اس قول میں ) انہوں نے النبوى، والمفسر الثامن محدث وقته ولی حدیث نبوی کی طرف اشارہ کیا ہے اور آٹھویں مفسر الله الدهلوى، فإنه فسّر معنى يَا عِيسَی إِنِّی اپنے زمانے کے محدث ولی اللہ دہلوی ہیں۔کیونکہ آپ مُتَوَفِّيكَ في كتابه ” الفوز الكبير وقال نے اپنی کتاب الفوز الکبیر میں يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ متوفيك مميتك۔ومع ذلك قد ذهب حزب کی تفسیر کی ہے اور فرمایا کہ مُتَوَفِّيكَ مُمِيتُكَ اور اس کے كثير من الأولين والآخرين إلى هذا المعنى، ساتھ اولین و آخرین کا ایک گروہ کثیر ان معنوں کی طرف گیا ہے "