حَمامة البشریٰ — Page 199
حمامة البشرى ۱۹۹ اردو ترجمه وما خالفه في هذا التفسير أحد من اور اس تفسیر میں آنحضرت ﷺ کے صحابہ أصحاب رسول الله صل اللہ علیہ وسلم میں سے کسی نے ابن عباس کی مخالفت نہیں کی۔بقية الحاشية صفحه ۱۹۵ - فقال ما بقیہ حاشیہ صفحہ ۱۹۵ - پس فرمایا کہ مَا قَتَلُوهُ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ صَلَبُوهُ وَلكِنْ شُبَهَ لَهُمْ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ۔وحاصل کلام إِلَيْهِ۔اور اللہ تعالی کے اس کلام کا خلاصہ یہ ہے تعالى أن شأن عيسى منزّه عن الصلب کہ عیسی کی شان صلیب دیئے جانے اور اس نتیجہ سے والنتيجة التي هي الملعونية وعدم الرفع، جس سے ملعونیت اور عدم رفع نکلتا ہے منزہ ہے۔بقية الحاشية صفحه ١٩۴_ فلا بد من أن نفسر بقیه حاشیه صفحه ۱۹۴۔لہذا ضروری ہے کہ ہم آیت بل رفعه الله الرفع في آية بَل رَّفَعَهُ الله بالرفع الروحاني كما اليه میں رفع کی تغییر روحانی رفع سے کریں جیسا کہ آیت هو مفهوم آية ارجعي إلى رَبِّكِ رَاضِيَةً اِرْجِعِي إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةٌ کا مفہوم ہے مرْضِيَّةً ، فإن الرجوع إلى الله تعالى راضية کیونکہ اللہ کی طرف رَاضِيَةً مُرْضِيَّة لوٹنا اور اس کی طرف رفع یہ مرضية والرفع إليه أمر واحد لا فرق بينهما معنى دونوں ایک ہی چیز ہیں ان میں معنی کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔بقية الحاشية تحت الحاشية وقد بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔اور سب نے اتفاق کیا ہے کہ اس آیت میں اتفقوا على أن معنى التوفّى فى هذه الآية هو تَوَفّی کے معنے صرف اور صرف وفات دینے کے ہیں۔پھر جن کے الإماتة لا غير۔ثم الذين في قلوبهم مرض لا دلوں میں بیماری ہے وہ نہ تو اللہ کے قول کی پرواہ کرتے ہیں اور نہ ہی يبالون قول الله ولا تفسیر رسوله ولا ما اس کے رسول کی تغییر کی اور نہ ہی اس تفسیر کی جو آپ کے صحابہؓ نے فسره صحابته ولا أقوال التابعين والأئمة فرمائی اور نہ ہی تابعین، ائمہ اور محدثین کے اقوال کی پرواہ کرتے والمحدثين۔فلا تعلم كيف نقبل معناهم ہیں۔پس ہم نہیں جانتے کہ ہم ان کے وہ معنے کیسے قبول کریں جن پر الذي لا دليل عليه من بيان الله و تفسیر اللہ کے بیان اور اُس کے رسول کی تفسیر سے کوئی دلیل نہیں ، اور ہم اس رسوله، وأين نفر من الرشد الذي قد تبيّن ؟ ہدایت سے کہاں بھاگ کر جائیں جو بالکل ظاہر وباہر ہے؟ کیا ہم أنترك الله ورسوله لقول قوم ضالين؟ منه اللہ اور اس کے رسول کو ایک گمراہ قوم کے قول کی خاطر چھوڑ دیں ؟ منه لے اور وہ یقیناً اسے قتل نہیں کر سکے اور نہ اسے صلیب دے کر مار ) سکے لیکن ان پر معاملہ مشتبہ کر دیا گیا۔(النساء: ۱۵۸) بلکہ اللہ نے اپنی طرف اس کا رفع کر لیا۔(النساء:۱۵۹) سے اپنے رب کی طرف کوٹ آ، اس حال میں کہ تو اُسے ) پسند کرنے والا بھی ہے اور اس کا پسندیدہ بھی ہے۔(الفجر : ۲۹)