حَمامة البشریٰ — Page 197
حمامة البشرى ۱۹۷ اردو ترجمه كما ذكرنا قليلا منها ولا جیسا کہ ہم نے ان میں سے تھوڑا سا ذکر حاجة إلى الإعادة۔و ما نجد کیا ہے۔جس کے دوہرانے کی ضرورت نہیں في حديث معنى التوفّى رفع اور ہم حدیث میں توفی کے معنے کسی شخص کا جسم رجل إلى السماء مع جسمه، کے ساتھ آسمان پر اٹھائے جانا نہیں پاتے۔بقية الحاشية صفحه ۱۹۵ - ثم شبه لهم بقیہ حاشیہ صفحہ ۱۹۵۔پھر اللہ کی طرف سے بطور ابتلاء وہ (مسیح) ابتلاء من عند الله كأنهم صلبوا المسیح انہیں ایک مصلوب کے مشابہ دکھائے گئے گویا انہوں نے مسیح ابن مریم ابـن مـريـم وقـتـلـوه فـحـسـبـوه ملعونا غیر کو صلیب دے دیا اور انہیں قتل کر دیا۔اس طرح انہوں نے انہیں ملعون مرفوع، ورتبوا الشكل هكذا المسيح ابن اور غیر مرفوع خیال کیا اور انہوں نے اس طرح منطقی شکل ترتیب مریم مصلوب، وكل مصلوب ملعون دی کہ مسیح ابن مریم مصلوب ہیں اور ہر مصلوب ملعون ہوتا ہے بقية الحاشية صـفـحـه ١٩۴ـ أعنى آية بقیہ حاشیہ صفحہ ۱۹۴۔یعنی آیت بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ بَلْ زَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ وآية فِيهَا تَحْيَوْنَ۔اور آیت فِيْهَا تَحْيَوْنَ میں اور تو جانتا ہے کہ قرآن وأنت تعلم أن القرآن منزّه عن التعارض تعارض اور تضاد سے پاک ہے اور اللہ تعالی نے (خود) والتخالف، وقال الله تعالى وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ فرمایا ہے کہ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ لَوَجَدُوا غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا ، فاشار فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا۔پس اس آیت میں اس نے في هذه الآية أن الاختلاف لا يوجد في القرآن اشارہ فرمایا ہے کہ قرآن میں کوئی بھی اختلاف نہیں پایا جاتا بقية الحاشية تحت الحاشية والمفسر بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔اور تیسرے مفسر ابوبکر الثالث أبو بكر الصديق رضي الله عنه، والمفسر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اور چوتھے مفسر ا بن عباس الرابع ابن عباس رضي الله عنه، والمفسر رضی اللہ عنہ ہیں اور پانچویں مفسر تابعین کی الخامس جماعة من التابعين، والمفسر السادس الإمام البخاري في صحيحه جماعت ہے اور چھٹے مفسر صحیح بخاری میں امام بخاری والمفسر السابع إمام المحدثين ابن القيم ہیں اور ساتویں مفسر امام المحدثین ابن قیم ہیں۔L بلکہ اللہ نے اپنی طرف اس کا رفع کر لیا۔(النساء: ۱۵۹) تم اسی (زمین) میں جیو گے۔(الاعراف: ۲۶) ے اور اگر وہ ( قرآن ) اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے۔(النساء:۸۳)