حَمامة البشریٰ — Page 365
حمامة البشرى ۳۶۵ اردو ترجمه وَ بَعْدَ بَيَانِي أَيْنَ تَذْهَبُ مُنْكِرًا اَتَعْلَمُ يَا مِسْكِينُ مَا هُوَ مُضْمَرُ اور میرے بیان کے بعد تو انکار کرتا ہوا کہاں جائے گا؟ اے مسکین ! کیا تو جانتا ہے اس امر کو جو پوشیدہ ہے؟ فَلَا تَتَجَرَّعُ أَيُّهَا الضَّالُّ فِي الْهَوَى بِأَيْدِيكَ كَأْسَ الْمَوْتِ مَالَكَ تُخْطِرُ اے حرص و ہوا میں گمراہ! تو گھونٹ گھونٹ مت پی اپنے ہاتھوں سے موت کا پیالہ جو تیرے لئے آ رہا ہے۔ وَإِنْ كُنْتَ لَا تَخْشَى فَقُلْ لَسْتَ مُؤْمِنًا وَيَأْتِي زَمَانٌ تُسْتَلَنَّ وَتُخْبَرُ اور اگر تو ڈرتا نہیں تو ( مجھے ) کہتا رہ کہ تو مومن نہیں اور ایک زمانہ آئے گا کہ تجھ سے ضرور پوچھا جائے گا اور تجھے پتہ لگ جائے گا۔ وَكُلُّ سَعِيدٍ يَعْرِفُ الْحَقَّ قَلْبُهُ وَأَمَّا الشَّقِيُّ فَيَعْلَمَنُ حِينَ يَخْسَرُ اور ہر ایک سعید کا دل حق پہچان لیتا ہے اور جو بد بخت ہے سو وہ اس وقت جانے گا جب وہ خسارے میں پڑے گا۔ وَ إِنِّي تَرَكْتُ النَّفْسَ وَالْخَلْقَ وَالْهَوَى فَلَا السَّبُّ يُؤْذِينِي وَلَا الْمَدْحُ يُبْطِرُ اور بے شک میں نے نفس کو مخلوق کو اور خواہشات کو چھوڑ دیا ہے سواب نہ گالی مجھے تکلیف دیتی ہے اور نہ مدح مجھے فخر دلاتی ہے۔ وَكَمْ مِّنْ عَدُوٌّ بَعْدَ مَا أَكْمَلَ الْأَذَى أَتَانِي فَلَمْ أَصْعَرُ وَمَا كُنتُ أَصْعَرُ اور بہت سے دشمن ہیں کہ پورا دکھ دے لینے کے بعد میرے پاس آئے پس میں نے بے رُخی نہ کی اور نہ ہی میں پہلے بے رخی کیا کرتا تھا۔ أَحِنُّ إِلَى مَنْ لَّا يَحِنُّ مَحَبَّةً وَأَدْعُو لِمَنْ يَدْعُو عَلَى وَيَهْذِرُ میں تو محبت کی وجہ سے اس کی طرف بھی مائل ہوتا ہوں جو میری طرف مائل نہیں ہوتا اور میں اس کیلئے بھی دعا کرتا ہوں جو مجھ پر بد دعا کرتا ہے اور بکواس کرتا ہے۔ خُذِ الرِّفْقَ إِنَّ الرِّفْقَ رَأْسُ الْمَحَاسِنِ وَيَكْسِرُ رَبِّي رَأْسَ مَنْ يَتَكَبَّرُ تو نرمی اختیار کر کہ نرمی تمام خوبیوں کی جڑ ہے اور میرا رب اس شخص کا جو تکبر کرتا ہے سر توڑ دیتا ہے۔ عَجِبْتُ لِأَعْمَى لَا يُدَاوِى عُيُونَهُ وَ مِنْ كُلِّ ذِي الْأَبْصَارِ يَلْوِى وَيَسْخَرُ میں اس اندھے پر تعجب کرتا ہوں جو اپنی آنکھوں کا علاج نہیں کرتا اور ہر آنکھوں والے سے منہ پھیرتا اور ہنسی کرتا ہے۔ اَ تَنْسى نَجَاسَاتٍ رَّضِيْتَ بِأَكْلِهَا وَتَذُمُّ مَا هُوَ مُسْتَطَابٌ وَ أَطْهَرُ کیا تو بھول گیا ہے ان نجاستوں کو جن کے کھانے پر تو راضی ہو گیا ہے؟ اور مذمت کر رہا ہے اس کی جو عمدہ اور بہت پاک ہے۔ تُسَمِّينَ جَهْلًا يَا ابْنَ اوِي ثَعْلَبًا وَمَا أَنَا إِلَّا اللَّيْتُ لَوْ تَتَفَكَّرُ ﴿١٠٦﴾ اے گیدڑ! تو نادانی سے میرا نام لومڑی رکھتا ہے حالانکہ میں تو ایک شیر ہوں اگر تو غور کرے۔ تَفِيضُ عُيُونُ الْعَارِفِينَ بِقَوْلِنَا وَلَكِنْ غَبِيٌّ يَضْحَكَنُ وَيُحَقِّرُ ہماری باتوں سے عارفوں کی آنکھیں بہہ پڑتی ہیں لیکن نبی ہنستا ہے اور تحقیر کرتا ہے۔