حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 232

حمامة البشرى ۲۳۲ اردو ترجمه أو توفى الله بكرا، أو تُوفّى (یعنی اللہ نے زید کو وفات دی ) یا تَوَفَّى الله خالد، فلا يكون معناه فى لسان بَكْرًا (اللہ نے بکر کو وفات دی ) یا تُوُفِّيَ خَالِدٌ العرب إلا الإماتة والإهلاك (خالد کو وفات دی گئی ) تو اس کے معنی عربی زبان ولن تجد ما يخالفه فی کلام میں صرف مارنے اور ہلاک کرنے کے ہوں گے۔ الله ولا في كلام رسوله ولا اور اس کے خلاف تو اللہ کے کلام ، رسول اللہ کے في كلام أحد من شعراء العرب كلام ، عرب کے شعراء میں سے کسی شاعر اور اُن ونوابغهم۔ فانظر إلى كل جهة کے متبحر علماء کے کلام میں اس - اس کے برعکس کوئی معنے نہ هل صدقنا في قولنا هذا أم كنا پائے گا۔ سو ہر طرف نگاہ ڈال کیا ہم اپنی اس بات من الكاذبين۔ وقد أطنبنا فی میں سچے ہیں یا جھوٹوں میں ہیں۔ اور ہم نے اپنا تقريرنا هذا ليتدبّر من كان موقف پوری تفصیل سے بیان کر دیا ہے تا کہ جو من المتدبرين۔ تدبر کرنے والے ہوں وہ تدبر کریں ۔ والعجب من بعض الجهلاء حیرت ہے جاہلوں پر کہ جب اُنہوں نے ہم سے أنهم إذا سمعوا منا هذه الحجة ہماری اس دلیل کو سنا تو اُنہوں نے ہدایت کی جستجو کرنے فما قبلوها كالمسترشدین والوں کی طرح اُسے قبول نہ کیا بلکہ مخالفت کرتے بل نهضوا معارضين، وقرأوا آية ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ اور اپنی طرف سے (ہماری ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ ، ونحوها دلیل کے توڑ کے طور پر آیت ثُمَّ تُوَفَّى كُل نقضا منهم، وا ولم يعلموا من حمقهم نفس اور کچھ دوسری اسی قسم کی آیتیں پڑھیں لیکن وشدة جهلهم أن هذه الآيات التي اُنہوں نے اپنی حماقت اور شدت جہالت کی وجہ سے يقرأون ردا علينا هيی كلها نہ سمجھا کہ یہ تمام آیات جو وہ ہماری تردید میں پڑھتے من باب التفعيل لا من باب ہیں وہ سب کی سب باب تفعیل سے ہیں نہ کہ التفعّل الذي هو محل النزاع باب تَفَعُل سے جو اس وقت محل نزاع ہے۔ لے پھر ہر نفس کو پورا پورا دیا جائے گا۔ (ال عمران: ۱۶۲)