حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 231

حمامة البشرى ۲۳۱ اردو ترجمه وبوجه الله وعزته۔۔إني قرأت اللہ کی ذات اور اس کی عزت کی قسم ! میں نے كتاب الله آية آيةً وتدبرت فيه، ثم كتاب اللہ کو آیت آیت پڑھا۔اور اس میں خوب قرأت كتب الحدیث بنظر عمیق تدبر کیا۔پھر میں نے حدیث کی کتابیں بنظر عمیق وتدبرت فيها، فما وجدت لفظ پڑھیں اور اُن میں بھی خوب غور کیا لیکن میں نے التوقي في القرآن ولا فی نہ تو قرآن میں اور نہ ہی احادیث میں لفظ توفی کو الأحاديث (إذا كان الله فاعله اس طور پر پایا ہے کہ (جب اُس کا فاعل اللہ ہو وأحد من الناس مفعولا به إلا اور اُس کا مفعول به کوئی انسان ہو) تو اُس بمعنى الإماتة وقبض الروح۔ومن کے معنی موت دینے اور قبض روح کے سوا کچھ اور يُثبت خلاف تحقیقی هذا فله الف ہوں اور جو شخص میری اس تحقیق کے خلاف ثابت من الدراهم المروجة إنعاما منی کرے تو اُسے ہزار روپیہ رائج الوقت میری طرف كذلك وعدتُ في كتبي التي سے بطور انعام ہے۔ایسا وعدہ میں اپنی مطبوعہ طبعتها وأشعتها للمنكرين وللذين اور مشتہرہ کتابوں میں ہمنکروں اور اُن لوگوں کے يظنون أن لفظ التوفّى لا يختص سامنے کر چکا ہوں جو یہ خیال کرتے ہیں کہ توفی بقبض الروح والإماتة عند کا لفظ جب اللہ اپنے بندوں میں سے کسی کے استعمال الله لعبد من عبادہ بل جاء لئے استعمال کرے تو وہ قبض روح اور موت دینے بمعنى عام في الأحادیث و کتاب کے لئے مخصوص نہیں بلکہ وہ احادیث اور ربّ ربّ العالمين۔العالمین کی کتاب میں عام معنوں میں آیا ہے۔والحق أن لفظ التوفّى إذا جاء في اور حق بات یہ ہے کہ جب توفی کا لفظ کسی كلام وكان فاعله الله، والمفعول به کلام میں آئے اور اُس کا فاعل اللہ ہو اور أحد من بني آدم صريحًا أو إشارة، مثلا مفعول به صراحت یا اشارۂ بنی آدم میں سے کوئی إذا كان الكلام هكذا توقى الله زيدا، ہو مثلاً کلام اس طرح ہو کہ تَوَفَّى الله زَيْدًا