حَمامة البشریٰ — Page 325
حمامة البشرى ۳۲۵ اردو ترجمه وأما شهادته فكما جاء في البخاري اُس کی شہادت جیسا کہ بخاری میں مذکور ہے اور متوفيك مميتك، وقال العينى شارح عينى شارح بخاری نے ابن ابی حاتم سے پوری سند البخارى رواه ابن أبي حاتم عن أبيه، کے ساتھ اس روایت کو حضرت ابن عباس تک قال حدثنا أبو صالح حدثنا معاوية عن پہنچایا ہے انہوں نے کہا کہ مُتَوَفِّيكَ : مُمِيْتُكَ على بن أبي طلحة عن ابن عباس قال ( يعنى مُتَوَفِّيكَ کے معنی مُمِيتُكَ کے ہیں) متوفيك مميتك۔ثم اعلم أن ادعاء پھر تو یہ جان لے کہ (حضرت) عیسی کے مجسمہ الإجماع في عقيدة رفع عيسى حيا العنصری زندہ اُٹھائے جانے کے عقیدہ کے بارہ بجسمه العنصری باطل و کذب صریح میں اجماع کا دعوی باطل اور صریح جھوٹ ہے۔قال ابن الأثير في كتابه الكامل إن ابن الاثیر نے اپنی کتاب الکامل میں کہا ہے کہ اہل أهل العلم قد اختلفوا في عیسی هل علم نے عیسی کے رفع کے بارے میں اختلاف کیا رفع قبل الموت أو بعده، فبعضهم ہے کہ آیا اُن کا رفع موت سے قبل ہوا یا بعد میں۔ذهبوا إلى أنه رفع قبل الموت، پس اُن میں سے بعض اس طرف گئے ہیں کہ اُن وبعضهم ذهبوا إلى أنه مات إلى ثلاث كا رفع موت سے پہلے ہوا اور بعض اس طرف گئے ساعات أو سبع ساعات، وذهب ہیں کہ وہ تین گھنٹے یا سات گھنٹے تک مرے رہے۔فريق من المعتزلة والجهمية أنه ما اور معتزلہ اور جہمیہ میں سے ایک فریق اس طرف رفع بجسمه العنصری بل مات و رفع گیا ہے کہ آپ کا رفع بجسمہ العنصر ی نہیں ہوا۔بالرفع الروحاني، وما يكون نزوله إلا بلکہ وہ وفات پاگئے اور اُن کا رفع روحانی رفع ہوا۔نزولا روحانيا كما كان الرفع اور اُن کا نزول بھی روحانی نزول ہوگا۔جیسا کہ اُن روحانيا۔وقد أثبت البخارى موته كا رفع روحانی تھا۔اور بخاری نے اُن کی وفات في صحيحه بكتاب الله وحدیث کو اپنی صحیح میں کتاب اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی رسوله وقول بعض الصحابة۔احادیث اور بعض صحابہ کے قول سے ثابت کیا ہے۔