حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 163

حمامة البشرى ۱۶۳ اردو ترجمه وقال بعضهم أن آية: فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي اور ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ آیت فَلَمَّا حق ولا شك أنها يدل على وفاة | تَوَفَّيْتَنِی برحق ہے اور بلا شبہ عیسی علیہ السلام کی عيسى عليه السلام بدلالة قطعية، وفات پر قطعی الدلالت ہے۔وہ یقیناً وفات پاچکے وإنه مات وإنّا نؤمن به، وكتبُ ہیں اور ہمارا اس پر ایمان ہے۔اور تفسیر کی کتابیں التفسير مملوة من هذا البيان، ولكنه اس بیان سے بھری پڑی ہیں۔لیکن عیسی علیہ السلام عليه السلام ما بقى ميتا بل بُعث حیا مرے نہیں رہے بلکہ وہ تین دن کے بعد یا سات بعد ثلاثة أيام أو سبع ساعات، ثم گھنٹے بعد جی اُٹھے۔بعد ازاں وہ بجسده العنصری رفع إلى السماء بجسده العنصری آسمان کی طرف اُٹھائے گئے۔اور پھر وہ آخری ثم ينزل فی آخر الزمان على الأرضِ زمانے میں زمین پر نازل ہوں گے اور چالیس ويمكث أربعين سنة، ثم يموت مرة سال تک رہیں گے پھر دوبارہ وفات پائیں گے ثانية ويُدفن في أرض المدينة في قبر اور سرزمین مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں دفن کئے جائیں گے۔اُن کے کلام کا فـحـاصــل كلامهم أن للخلق كلهم خلاصہ یہ ہے کہ تمام مخلوق کے لئے تو صرف ایک موت واحد وللمسيح موتین موت ہے لیکن مسیح کے لئے دو موتیں۔لیکن جب ولكنا إذا نظرنا في كتاب الله ہم اللہ سبحانہ کی کتاب قرآن میں نظر ڈالتے ہیں تو سبحانه فوجدنا هذا القول مخالفا اس قول کو نصوص بینہ کے مخالف پاتے ہیں کیا تو لنصوصه البينة۔ألا ترى أن الله نہیں دیکھتا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب تبارك وتعالى قال في كتابه المحكم محکم میں ایک ایسے مومن کے بارے میں حکائیڈ حكاية عن مؤمن مُغْبطًا نفسه بما بیان فرمایا ہے جو اللہ کے اُسے جنت میں ابدی أعطاه الله من الخُلد فى الجنة زندگی عطا کرنے اور بغیر موت کے عزت کے مقام والإقامة في دار الكرامة بلا موت میں مقیم کرنے پر اپنے آپ پر رشک کرتا ہے۔مَوْتُ وَاحِدٌ غالباً سہو کتابت ہے درست مَوْتًا وَاحِدًا “ ہے۔(ناشر)