حَمامة البشریٰ — Page 164
حمامة البشرى ۱۶۴ اردو ترجمه أَفَمَا نَحْنُ بِمَيَّتِينَ - إِلَّا مَوْتَتَنَا أَفَمَا نَحْنُ بِمَيَّتِينَ - إِلَّا مَوْتَتَنَا الْأُولى الأولى وَمَا نَحْنُ بِمُعَذِّبِينَ - وَمَا نَحْنُ بِمُعَذِّبِينَ ـ إِنَّ هَذَا لَهُوَ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ - الْفَوْزُ الْعَظِيمُ فانظر أيها العزيز۔۔كيف أشار عزیز من! اس بات پر غور کر کہ کس طرح اللہ الله تعالى إلى امتناع الموت الثاني تعالیٰ نے پہلی موت کے بعد دوسری موت کے بعد الموتة الأولى، وبشرنا امتناع کی جانب اشارہ فرمایا ہے اور موت کے بالخلود في العالم الثاني بعد ہمیں دوسرے جہاں میں ہمیشہ رہنے کی بعد الموت، فلا تكن من بشارت دی ہے۔اس لئے تو انکار کرنے المنكرين۔وأنت تعلم أن الهمزة والوں میں سے نہ بن۔اور تو جانتا ہے کہ في جملة: أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ أَفَمَانَحْنُ بِمَيِّتِيْن “ کے جملے میں ہمزہ للاستفهام التقريرى، وفيها استفهام تقریری کے لئے ہے اور اس میں تعجب معنى التعجب، والفاء ههنا للعطف کے معنی پائے جاتے ہیں۔اور حرف فا“ على محذوف، أى: أنحنُ یہاں محذوف پر عطف ہے۔یعنی یہ کہ کیا ہم مخلدون مُنعمون مع قلة أعمالنا اپنے اعمال کی بے بضاعتی کے باوجود جنت کی وما نحن بميتين۔واعلم ان نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے اور ہم مریں گے هذا سؤال من أهل الجنة نہیں؟ اور تجھے یہ معلوم ہو کہ یہ سوال جنتیوں حين يسمعون قول الله تعالی کا اُس وقت ہوگا جب وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد سنیں كُلُوا وَاشْرَبُوا هَيَّنَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ، گے کہ كُلُوا وَاشْرَبُوْا هَيْئًا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُوْنَ لے پس کیا ہم مرنے والے نہیں تھے، سوائے ہماری پہلی موت کے اور ہمیں ہرگز عذاب نہیں دیا جائے گا۔یقیناً یہی (ایمان لانے والے کی ) ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔(الصافات: ۵۹ تا ۶۱) کھاؤ اور مزے لے کر پیو۔کیونکہ یہ انعام تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے۔(المرسلات : ۴۴)