حکایاتِ شیریں — Page 10
14 14 علمیت اور حکمت اور دانائی ان کے کچھ کام نہ آئی۔شنوی میں ایک قصہ لکھا ہے کہ ایک شخص دولتمند تھے مگر بے چارے کی عقل کم تھی۔وہ کہیں جانے لگا اس نے گدھے پر بوری میں ایک طرف جواہر ڈالے اور وزن کو برا بہ کرنے کے واسطے ایک طرف اتنی ہی ریت ڈال دی۔آگے چلتے چلتے اسے ایک شخص دانشمند کیا مگر کپڑے پھٹے ہوئے بھوک کا مارا ہوا ، مربہ پکڑی نہیں۔اس نے اس کو مشورہ دیا کہ تو نے ان جواہرات کو نصف نصف کیوں نہ دونوں طرف ڈالا۔اب ناحق جانور کو تکلیف دے رہا ہے۔اس نے جواب دیا کہ میں تیری عقل نہیں برتنا۔تیری عقل کے ساتھ نحوست ہے۔بلکہ میں تجھ بد بخت کا مشورہ تبھی قبول نہیں کرتا۔) ملفوظات جلد پنجم صفحه ۳۸۴) مرنے کے وقت ریا کاری جب تک انسان سچا مومن نہیں بنتا اس کے نیکی کے کام خواہ کیسے ہی عظیم انسان ہوں لیکن وہ ریا کاری کے مجمع سے خالی نہیں ہوتے۔۔۔۔۔۔خواجہ صاحب نے ایک نقل بیان کی منفی اور خود میں نے بھی اس قصہ کو پڑھا ہے کہ سر فلپ سڈنی ملکہ الز ہیتھ کے زمانہ میں قلعہ زلفن ملک ہالینڈ کے محاصرہ میں جب زخمی ہوا تو اس وقت عین نزع کی تلخی اور شدت پیاس کے وقت جب اس کیلئے ایک پیالہ پانی کا جو وہاں بہت کمیاب تھا مہیا کیا گیا۔تو اس کے پاس ایک اور زخمی سپاہی تھا۔جو نہایت پیاسا تھا وہ سر قلب سڈنی کی طرف حسرت اور طمع کے ساتھ دیکھنے لگا۔سڈنی نے اس کی یہ خواہش دیکھ کر پانی کا وہ پیالہ خود نہ پیا بلکہ بطور انتیار یہ کہہ کر اس سپاہی کو دے دیا کہ " تیری ضرورت مجھ سے زیادہ ہے " مرنے کے وقت بھی لوگ ریا کاری سے نہیں رکھتے۔ایسے کام اکثر ریا کاروں سے ہو جاتے ہیں جو اپنے آپ کو اخلاق فاضلہ والے انسان ثابت کرنا یا دکھانا چاہتے ہیں۔w ہمارا نقاره ر ملفوظات جلد اوّل صفحه ۲۱۳ ) " اعداء کا وجود ہمارا نقارہ ہے۔یہ انہیں کی مہربانی ہے کہ تبلیغ کرتے رہتے ہیں۔مثنوی میں ذکر ہے کہ ایک دفعہ ایک چور ایک مکان کو نقب لگا رہا تھا ایک شخص نے اوپر سے دیکھ کر کہا کہ کیا کرتا ہے۔چور نے کہا کہ نقارہ بجا رہا ہوں۔اس شخص نے کہا آواز تو نہیں۔آئی چور نے جواب دیا کہ اس نقارہ کی آواز صبح کو سنائی دیوے گی اور ہر ایک سنے گا ایسے ہی یہ لوگ شور مچاتے ہیں اور مخالفت کرتے ہیں تو لوگوں کو خبر ہوتی رہتی ہے ( ملفوظات جلد پنجم صفحه ۳۷۲)