حکایاتِ شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 22

حکایاتِ شیریں — Page 9

۱۵ ہی پھولا اور صرف اس صلہ میں کہ اس نے اس کے دوست کا کہا مان لیا اس کو ناراض نہیں کیا اس کنیز کو اس نے آزاد کر دیا اور کہا کہ اس نیک کام کے اجر میں جو کہ تجھ سے ہوا ہے کہ میں آج سہی تجھ کو آزاد کرتا ہوں ( ملفوظات جلد پنجم صفحه ۲۶۸) ایک طوطے کی کہانی صوفی کہتے ہیں کہ ایک شخص کو جو خدا تعالی سے ملنا چاہے ضروری ہے کہ وہ باب الموت سے گزرے مثنوی میں اس مقام کے بیان کرتے ہیں ایک قصہ نقل کیا ہے کہ ایک شخص کے پاس ایک طوطا تھا۔جب وہ شخص سفر کو چلا تو اس نے طوطے سے پوچھا کہ تو کبھی کچھ کہہ۔طوطے نے کہا اگر تو فلاں من مقام پر گزرے تو ایک بڑا درخت ملے گا اس پر بہت سے طوطے ہوں گے ان کو میرا یہ پیغام پہنچا دینا کہ تم بڑے خوش نصیب ہو کہ کھلی ہوا میں آزادانہ زندگی بسر کرتے ہو اور ایک میں بے نصیب ہوں کہ قید میں ہوں۔وہ شخص جب اس درخت کے پاس پہنچا تو اس نے طوطوں کو وہ پیغام پہنچایا۔ان میں سے ایک طوطی درخت سے گرا اور پھڑ پھڑک کر جان دے دی۔اس کو یہ واقعہ دیکھ کر کمال افسوس ہوا کہ اس کے ذریعہ سے ایک جان ہلاک ہوئی۔مگر سوائے صبر کے کیا چارہ تھا۔جب سفر سے وہ واپس آیا تو اس نے طوطی کو سارا واقعہ سنایا اور اظہار غم کیا۔یہ سنتے ہی وہ طوطا بھی جو پنجرہ میں تھا پھڑ کا اور پھڑک پھڑک کر جان دے دی یہ واقعہ دیکھ کر اس شخص کو اور بھی افسوس ہوا کہ اس کے ہاتھ سے دو خون ہو تے آخر اس نے طوطا کو پنجرے سے نکال کر باہر پھینک دیا تو وہ طوطا جو پنجرہ سے مردہ سمجھ کر پھینک دیا تھا اڑا کر دیوار پر جا بیٹھا اور کہنے لگا در اصل نہ وہ طوطا مرا تھا اور نہ نہیں۔میں نے تو اس سے راہ پوچھی تھی کہ اس قید سے آزادی کیسے حاصل ہو۔سو اس نے مجھے بتایا کہ آزادی تو مر کہ حاصل ہوتی ہے۔پس میں نے کبھی موت اختیار کی تو آزاد ہو گیا۔پس یہ سچی بات ہے کہ نفس امارہ کی تاروں میں جو۔۔۔جکڑا ہوا یہ ہے اس سے رہائی بغیر موت کے ممکن ہی نہیں۔( ملفوظات جلد ششم صفحه ۹۶ ) قلوب میں عظمت ڈالتی خدا کا کام ہے علماء دین کے واسطے ظاہری بلندی چاہتی عیب میں داخل ہے۔قلوب میں عظمت ڈالنی انسانی ہاتھ کہ کام نہیں ہے۔یہ ایک کشش ہوتی ہے جو کہ خدا تعالیٰ کے ارادہ سے ہوتی ہے۔ہم کیا کہ رہے ہیں جو ہزارہا آدمی گھنٹے پہلے آتے ہیں۔یہ سب خدا تعالی کی کشش ہے۔ان لوگوں کی