حکایاتِ شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 22

حکایاتِ شیریں — Page 11

19 ١٨ طاعون کے ٹیکہ کا حال طاعون سے بچنے کیلئے ٹیکہ لگانے کا ذکر ہورہا تھا حضرت نواب محمد علی خانصاحب نے کہا کہ ٹیکہ بھی کہاں تک لگے گا اس پر حضرت اقدس نے ہنس کر فرمایا وہی مثال ہے جس کا ذکر مثنوی میں لکھا ہے کہ ایک شخص کی ہاں بد کار تھی۔اس نے اسے مار ڈالا۔لوگوں نے کہا ماں کو کیوں مار ڈالا ؟ اس کے دوستوں کو مارنا تھا۔اس نے جواب دیا کہ ایک کو مار تا دو کو مارتا آخر کنتوں کو مارتا اس لیے اسے ہی مارنا مناسب تھا۔یہی حال ٹیکہ کا ( ملفوظات جلد چہارم صفحه (۸۰) ہے۔بہرہ اور مریض جب ہم انسان کو مہذب دیکھتے ہیں تو کیوں اس کی جڑ تہذیب نہ بتائیں کیا خدا تعالیٰ کو پہلا عمدہ نمونہ دکھانا چاہیے تھا یا خراب اور اول الدن درد کا مصداق۔خدا نے برا بنایا تھا اور پھر گھس کر گھس گھس کر خود عمدہ بن گیا۔خدا تعالیٰ کی شان میں گستاخی اور تو میں ہے توہین اور اس کی تو وہی مثال ہے جو مثنوی میں ایک بہرہ کی حکایت لکھی ☐ ) ( ) ہے کہ وہ کسی بیمار کی عیادت کو گیا اور خود ہی تجویز کر لیا کہ پہلے مزاج پوچھوں گا وہ کہے گا اچھا ہے میں کہوں گا الحمد للہ اورپھر میں پوچھوں گا آپ کیا کھاتے نہیں تو وہ چونکہ بیمار ہے یہی کہے گا کہ مونگ کی دال کھاتا ہوں میں کہوں گا بہت اچھا اور پھر پوچھوں گا طبیب کون ہے وہ کہے گا فلاں ہے میں کہوں کا خوب ہے دست شفا ہے لیکن جب وہاں گئے تو بہرہ مریض سے آپ کا مزاج کیسا ہے ؟ مریض : مر رہا ہوں۔بہرہ : الحمد لله بہرہ (مریض سے، آپ کی غذا کیا ہے ؟ مریض : خون جگر بہرہ : بہت اچھی غذا ہے۔بہرہ (مریض سے): طبیب کون ہے ؟ مریض : ملک الموت بہرہ ، طبیب اچھا ہے دست شفا ہے۔ان لوگوں کی بھی کچھ ایسی حالت ہے۔د ملفوظات جلد سوم صفحه ۴۱۷-۴۱۸)