عَلیٰ دِیْنِ وَّاحِدٍ : حکم اور عدل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 7 of 38

عَلیٰ دِیْنِ وَّاحِدٍ : حکم اور عدل — Page 7

عَلَى دِينِ وَاحِدٍ: حکم اور عدل خطبہ جمعه بیان فرموده ۲۸ اگست ۲۰۲۰ اور تمام نزاعیں جو مسلمانوں میں پڑی ہوئی ہیں ایک دم میں طے ہوسکتی ہیں۔جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر حکم بن کر آیا ہے جو معنی قرآن شریف کے وہ کرے گا وہی صحیح ہوں گے اور جس حدیث کو وہ صحیح قرار دے گاوہی صحیح حدیث ہو گی۔ورنہ شیعہ سنی کے جھگڑے آج تک دیکھو کب طے ہونے میں آتے ہیں۔“ ابھی تک تو نہیں ہوئے۔شیعہ اگر تبر کر تے ہیں۔“ یعنی تین خلفاء کو برا بھلا کہتے ہیں۔ان کے بارے میں غلط الفاظ استعمال کرتے ہیں۔” تو بعض ایسے بھی ہیں۔“ دوسروں میں سے ”جو حضرت علی کرام اللہ وجھہ کی نسبت کہتے ہیں: بر خلافت دلش کسے مائل لیک بُو بکر شُدُ دَرمیان حائل“ کہ خلافت پر اس کا دل بہت مائل تھا لیکن ابو بکر اس میں حائل ہو گیا یعنی کہ ان کی خواہش تھی۔فرماتے ہیں کہ ”مگر میں کہتا ہوں کہ جب تک یہ اپنا طریق چھوڑ کر مجھ میں ہو کر نہیں دیکھتے یہ حق پر ہر گز نہیں پہنچ سکتے۔اگر ان لوگوں کو اور یقین نہیں تو اتنا تو ہو نا چاہیے کہ آخر مرنا ہے اور مرنے کے بعد گند سے تو کبھی نجات نہیں ا 7