عَلیٰ دِیْنِ وَّاحِدٍ : حکم اور عدل — Page 8
عَلَى دِينِ وَاحِدٍ: حکم اور عدل خطبه جمعه بیان فرموده ۲۸ اگست ۲۰۲۰ ہوسکتی۔آخر مرنا ہے اور مرنے کے بعد گند سے تو کبھی نجات نہیں ہوسکتی۔”سب وشتم جب ایک شریف آدمی کے نزدیک پسندیدہ چیز نہیں ہے تو پھر خدائے قدوس کے حضور عبادت کب ہوسکتی ہے؟“ انسان اسی طرح غلط کام کر رہا ہے ، ظلم کر رہا ہے تو اس کی عبادت تو پھر اللہ کے حضور عبادت نہیں کہلا سکتی۔اسی لیے فرمایا ”اسی لیے تو میں کہتا ہوں کہ میرے پاس آؤ، میری سنو تا کہ تمہیں حق نظر آوے۔میں تو سار ا ہی چولہ اتارنا چاہتا ہوں۔سچی توبہ کر کے مومن بن جاؤ۔“ یہ جو بناوٹوں کا اور غلط عقائد کا چولہ پہنا ہوا ہے اس کو اتار و۔سچی تو بہ کر و تبھی مومن بن سکتے ہو۔پھر جس امام کے تم منتظر ہو میں کہتا ہوں وہ میں ہوں اس کا ثبوت مجھ سے لو۔2 پس یہ ہے وہ حقیقت جس سے دین کا صحیح ادراک ہو سکتا ہے کہ آپس کے لڑائی جھگڑوں، اناؤں کو ختم کر کے پھر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں۔اس سے دعا کریں۔حقیقی توبہ کریں اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب اپنے دل کو ہر ملونی سے صاف کر کے اللہ تعالیٰ کے آگے جھکا جائے پھر اللہ تعالی صحیح رہنمائی فرماتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خلفائے راشدین کے مرتبہ و مقام اور بزرگی کو اس طرح بیان فرمایا ہے۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں: 8