حضرت حفصہ ؓ — Page 15
15 قرآن پاک میں کسی بیوی کا نام نہیں ہے لیکن بخاری و مسلم شریف میں لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی بی بی زینب کے گھر میں شہد پیا۔عائشہ صلى الله اور حفصہ نے زینب پر غیرت کی اور رسول خدا ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ﷺ کے منہ سے مغافیر کی بُو آتی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے زینب کے گھر میں شہد پیا ہے۔اب پھر شہد نہ پیوں گا۔(24) آپ مے کے گھر میں انتہائی سادگی تھی۔جس کی وجہ یہ تھی کہ کوئی دنیاوی چیز خدا تعالیٰ کی طرف سے توجہ ہٹا نہ دے۔آپ ﷺ دعا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ بس اتنا رزق دے جس سے زندہ رہ سکیں۔یہی سادگی اپنی ازواج کو بھی سکھائی حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ میلہ نے ہم کو پانچ چیزوں سے منع کیا۔ریشمی کپڑے، سونے کے زیورات ،سونے اور چاندی کے برتن، سرخ نرم گڈے اور گتان آمیز ریشمی کپڑے۔(25) قرآن پاک نے مطالبہ کرنے والیوں کا نام نہیں لکھا البتہ اس کا ذکر قرآن کریم میں اس طرح سے ہے کہ :۔يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِازْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا وَ زِيْنَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلاً O وَإِنْ كُنتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّرَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا O (الاحزاب : 29، 30 )