حضرت حفصہ ؓ — Page 16
16 ترجمہ: ”اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں دیدی سامان دے کر رخصت کر دیتا ہوں اور احسن اور نیک طریق سے تمہیں رخصت کر دیتا ہوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور اخروی زندگی کے گھر کو چاہتی ہو تو اللہ تعالیٰ نے تم میں سے پوری طرح اسلام پر قائم رہنے والیوں کے لئے بہت بڑا اجر تجویز فرمایا ہے۔“ حضرت حفصہ کے لئے آنحضور ﷺ کی آخری بیماری کا ایک چھوٹا سا واقعہ یاد گار بن گیا۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ جب آنحضور علیہ کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور آپ مے سہارا لے کر میرے گھر تشریف لائے تو حضور ﷺ نے فرمایا " میرے اوپر سات مشکیں بہاؤ جن کے ابھی منہ 66 الله نہ کھولے گئے ہوں شاید میں لوگوں کو وصیت کر سکوں۔چنانچہ آنحضور علی کو حضرت حفصہ کے شب میں بٹھا کر سات مشکیں ڈالی گئیں یہاں تک کہ الله آپ ﷺ نے اشارہ فرمایا کہ بس، پھر آپ میلہ لوگوں کے پاس تشریف لے گئے پھر نماز پڑھائی اور خطبہ دیا۔(27) حضرت حفصہ نے اپنی ساری زندگی بہت سادگی سے صوفیانہ انداز میں گزاری۔قرآن مجید پڑھنا پڑھانا آپ کا مشغلہ رہا۔آپ دجال سے اور اس کے ذکر سے بہت ڈرتی تھیں۔بعض احادیث میں آتا ہے کہ حضرت حفصہ طبیعت اور مزاج کی تیز تھیں تاہم اس کے باوجود فقہ اور تقویٰ میں ممتاز تھیں